حیات بشیر

by Other Authors

Page 375 of 568

حیات بشیر — Page 375

375 سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۶۲-۳-۱۹ ۲۰: برادرم محترم حکیم عبد اللطیف صاحب گجراتی نے حج پر جاتے ہوئے ایک چٹھی آپ کو کراچی سے بھی لکھی تھی۔اس کے جواب میں آپ نے لکھا کہ: آپ کا خط از کراچی محرره ۶۲-۴-۳ موصول ہوا جزاکم اللہ احسن الجزاء الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اس وقت تک حج کے تعلق میں سارا کام خیر وخوبی کے ساتھ چل رہا ہے۔اللہ تعالی انجام تک خیر وخوبی کا سلسلہ جاری رکھے اور ہر جہت سے حج کو برکتوں اور فضلوں اور انعاموں سے معمور فرمائے۔آمین میں اپنی دعاؤں کے متعلق صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم وحیا ہے پس جو دعائیں میں نے آپ کو لکھ کر دی ہیں یا شیخ عبدا لقادر صاحب نے رؤیا کی بناء پر نوٹ لکھا ہے یا خود آپ نے نوٹ کی ہیں ان سب کے علاوہ میری اپنے آسمانی آقا سے یہی آرزو ہے جو اوپر والے شعر میں درج ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اور آپ کی زبان اور جوارح کو حق وصداقت کے راستہ پر چلائے۔اور خدا کی رضا کے ماتحت میرے دل کی آرزو پوری ہو۔آمین یا ارحم الراحمین۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۶۲-۴-۷ 66 اب ہم حضرت سیدی صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک اہم مکتوب درج کرتے ہیں جو آپ نے ان ایام میں لکھا جب کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے بعد غیر مسلم مسلمانوں کو مار مار کر بھارت سے نکال رہے تھے اور ضلع گورداسپور میں صرف قادیان ہی ایک ایسی بستی رہ گئی تھی جہاں گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے منارة امسیح سے اذان کی آواز گونجتی تھی۔یہ خط حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نام ہے جو ان دنوں لاہور میں تھیں۔اس خط سے اس وقت کے نازک حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے اور حضرت میاں صاحب رضی پاک جذبات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔احباب اس گرامی نامہ کو حضرت سیدہ موصوفہ کے اللہ عنہ کے مندرجہ ذیل نوٹ کی روشنی میں مطالعہ فرمائیں۔