حیات بشیر — Page 274
274 ارشاد فرمایا۔والد صاحب حضرت میاں صاحب سے چند الفاظ بول کر بے اختیار رو پڑے۔حضرت میاں صاحب نے آپ کو تسلی دی لیکن ساتھ ہی اُٹھ کر والد صاحب کی طرف پشت کر کے دروزاہ میں کھڑے ہو گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ خود حضرت میاں صاحب کا دل بھر آیا تھا اور اپنے آپ پر قابو پانے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔اس کے بعد دوسرے کمرے کی طرف تشریف لائے جہاں میری والدہ اور ہمشیرگان تھیں اور ان کو مخاطب ہو کر نصیحت فرمائی کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ان کی خدمت کا موقعہ ملا ہے۔آپ ڈاکٹر صاحب کا اچھی طرح سے خیال رکھیں۔جب آپ بیمار پرسی کے بعد گھر سے باہر تشریف لائے تو مکرمی حمید احمد صاحب اختر سے دریافت فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کے لڑکے کہاں ہیں؟ حمید احمد صاحب نے بتایا کہ عزیزم منیر الدین احمد صاحب سکھر میں سوئی گیس میں ملازم ہیں اور خاکسار کے متعلق بتایا کہ وہ اس وقت مغربی افریقہ میں بطور مبلغ کام کر رہا ہے۔اس پر حضرت میاں صاحب نے حمید احمد صاحب سے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کی حالت اچھی نہیں ہے لہذا عزیزم منیر الدین احمد کو فوراً اطلاع کر دی جائے تاکہ وہ اس موقعہ پر یہاں آ کر اپنے والد سے مل لیں۔والد صاحب کی وفات سے قبل حضرت میاں صاحب بغرض علاج لاہور تشریف لے جا چکے تھے۔مکرمی حمید احمد صاحب اختر نے بذریعہ ٹیلیفون آپ کو والد صاحب کی وفات کی اطلاع دی۔آپ نے انا للہ پڑھنے کے بعد دریافت فرمایا کیا منیر الدین احمد ربوہ پہنچ گئے ہوئے ہیں؟ حمید صاحب نے بتایا کہ وہ ابھی تک نہیں پہنچے۔اس پر آپ نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا ضرور انتظار کر لیا جائے۔نیز ہدایت فرمائی کہ والد صاحب کے جسم کے پاس برف رکھی جائے اور چار پائی کے چاروں پایوں کے نیچے پانی رکھا جائے۔نیز یہ کہ نعش کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود رہے۔اگلے روز والد صاحب کا جنازہ پڑھا گیا۔قبرستان پہنچنے میں بہت دیر ہوگئی۔سب نے یہی رائے دی کہ اب بغیر کسی کے انتظار کے نعش کو دفنا دیا جائے۔اس