حیات بشیر — Page 273
273 بڑھا تو آپ نے نفس پر جبر کر کے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا: مولو يصاحب ! اللہ تعالیٰ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔اب جماعت احمدیہ کو بھارت میں تبلیغ اسلام کا خوب موقعہ ملے گا۔“ ۷۸ یہ فقرہ کہہ کر آپ نے ہزارہا مغموم اور افسردہ دلوں کو ڈھارس دلا دی اور عجیب بات یہ ہے کہ واقعات کی رُو سے بھی آپ کا یہ فرمان درست ثابت ہوا۔ڈوبتے ہوؤں کا سہارا ہمدردی مخلوق کا یہ حال تھا کہ آپ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی احمدی کسی انتظامی سختی کا شکار ہو کر سلسلہ سے کٹ جائے۔ایسے شخص کو سمجھانے کی آپ ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔زبانی بھی اور تحریری بھی اور شکایت کے جائز حصہ کا ازالہ کر کے بھی اور اس طرح آپ نے متعدد ڈوبتے ہوئے افراد کو بچا لیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کو تو اللہ تعالیٰ نے نگران کا مقام عطا فرمایا ہے اگر حضور سختی بھی کریں تو نظام سلسلہ کی حفاظت کے لئے آپ کا حق ہے۔لیکن میں ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ سمجھا بجھا کر ٹھوکر کا شکار ہونے والے افراد کو بچا لوں۔بیمار پرسی اور اظہار تعزیت سے متعلق آپکا نمونہ آپ کا طریق کار یہ تھا کہ مخلصین سلسلہ میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جاتا تو علم ہونے پر آپ اس کی عیادت کے لئے تشریف لیجاتے اور اکثر اپنی بیماری کے ایام میں بھی اس فرض کو سرانجام دیا۔لیکن جب چلنا دشوار ہو گیا تو پھر زبانی طور پر یا بذریعہ تحریر بیماروں کی حالت سے متعلق دریافت فرماتے رہے۔مکرم شیخ نصیر الدین صاحب سابق مبلغ سیرالیون نائیجیریا لکھتے ہیں کہ: ”میرے والد صاحب مرحوم حافظ ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب کی وفات سے چند روز قبل برادرم مکرم حمید صاحب اختر نے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں ان کی تشویشناک بیماری کا ذکر کیا۔آپ نے ان سے فرمایا۔آج شام کے قریب میرے پاس آنا۔ہم اکٹھے ان کو دیکھنے کے لئے جائیں گے۔چنانچہ شام کے قریب آپ والد صاحب کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے۔حالانکہ ان دنوں آپ خود بھی بیمار تھے۔والد صاحب حضرت میاں صاحب کی تعظیم کے لئے اُٹھ کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہے تھے لیکن حضرت میاں صاحب نے آپ کو لیٹے رہنے کا