حیات بشیر

by Other Authors

Page 126 of 568

حیات بشیر — Page 126

126 اس کے بعد حضور نے تقریر فرمائی۔۳۲۹ خدام الاحمدیہ کا مالی ہفتہ ر دسمبر سے ۱۵/ دسمبر ۵۳ ء تک مجالس خدام الاحمدیہ نے مالی ہفتہ منایا۔اس موقعہ پر آپ نے بھی خدام کو ایک پیغام دیا جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ ”جہاں تک میں نے سوچا ہے جماعتی چندے ایک طرح سے دین کا نصف حصہ ہیں۔“ اور یہ کہ "جو شخص احمدی کہلا کر چندوں کے معاملہ میں سست ہے وہ حقیقتاً جماعت کی غرض وغایت اور اہمیت کو سمجھتا ہی نہیں۔“ ۳۳۰ رسول کریم کی تریسٹھ سالہ عمر دو اپریل ۵۴ء میں آپ کے ایک ہم جماعت چوہدری نذیر احمد صاحب طالب پوری کا انتقال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا تو آپ نے ان کی وفات پر ایک نوٹ میں تحریر فرمایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بچپن کے زمانہ سے لے کر آج تک جب بھی مجھے کسی عزیز یا دوست یا بزرگ کی تریسٹھ سالہ عمر کا خیال آتا ہے تو لازماً اور بلا استثناء میرا خیال سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفی علی کی طرف منتقل ہو جاتا رہا ہے کیونکہ آپ نے بھی تریسٹھ سال کی عمر پائی تھی اور چونکہ آپ کی عمر قمری حساب سے تھی اس لئے شمسی حساب کے مطابق یہ عمر کچھ اوپر اکسٹھ سال کی بنتی ہے۔یہ سب سے کم عمر ہے جو کسی نبی نے (جو کسی حادثہ کے نتیجہ میں فوت نہیں ہوئے) اس ناپائیدار دنیا میں پائی اور اس کے مقابل پر ہمارے آقا علیہ نے جو کام کیا وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ مقابل پر اگر سب دوسرے نبیوں کے کام کو رکھا جائے تو پھر بھی آپ کے کام کا پلڑا بہت زیادہ بھاری نظر آتا ہے۔“ ۳۳۱۔آپ کا مقامی امیر مقرر ہونا ۶ جون ۵۴ ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ربوہ سے بذریعہ چناب ایکسپریس کراچی تشریف لے گئے۔حضور نے اپنے بعد ۷ ارجون تک مکرم مولانا شمس صاحب کو اور اس کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقامی امیر مقرر فرمایا۔۳۳۲