حیات بشیر — Page 127
127 بجلی کی رو کا افتتاح ورجون کی رات کو ربوہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بجلی کی رو کا افتتاح ہوا اور سب سے پہلے مسجد مبارک میں روشنی ہوئی۔اس موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کثیر احباب کے ساتھ مسجد میں دعا فرمائی۔۳۳۳ صدر انجمن احمدیہ کی کارکنیت سے آپکا ریٹائر ہونا ۱۸ جون ۵۴ ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی عمر چونکہ ساٹھ سال ہو چکی تھی اس لئے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ماتحت کہ ساٹھ سال کی عمر پر بہر حال ریٹائر کیا جانا چاہیے۔اگر کام کے قابل ہوں سالانہ وسعت ملازمت میں دی جائے۔“ آپ کو صدر انجمن احمدیہ کی کارکنیت سے ریٹائر کر دیا گیا۔مگر ریٹائر منٹ کے بعد بھی بحیثیت ناظر دفتر خدمت درویشاں آپ مجلس معتمدین کے ممبر رہے۔دل کی تکلیف کا حملہ ۲۹ جون کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پر دل کی تکلیف کا حملہ ہوا ڈاکٹری مشورہ کے مطابق یکم جولائی کو ایمبولنس کار پر حضرت میاں صاحب کو لاہور لے جایا گیا۔راستہ میں شیخوپورہ کے قریب تنفس کا شدید دورہ پڑا۔مگر ٹیکے وغیرہ کرنے اور آکسیجن سونگھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل ۳۳۴۰ سے آرام آ گیا اور آپ آہستہ آہستہ شام کے چار بجے لاہور پہنچے " آپ کا قیام ان دنوں کوٹھی ۳۳۶ نمبر ۹۶ - اپرمال پر تھا۔۴۳۳۵ ۲۵ /اگست کو آپ کو سانس کی تکلیف کا پھر سخت دورہ ہوا۔ساتھ ہی گلے میں بھی چوکنگ کی تکلیف رہی۔اس وجہ سے آپ کو آکسیجن گیس بھی دی گئی۔1 ستمبر ۵۴ کے آخر میں آپ نے اعلان فرمایا کہ مجھے خدا کے فضل سے کافی افاقہ لیکن چونکہ ابھی تک بیماری کا پورا استیصال نہیں ہوا۔اس لئے ڈاکٹر صاحبان کی ہدایت کے مطابق کافی احتیاط کی جارہی ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جلد کامل شفا دے کر اس نعمت میں سے حصہ وافر عطا فرمائے جس کا اس نے ہمارے پیارے رسول سے وعدہ فرمایا ہے کہ للأخرة خير لك من الاولى ٣٣٤ ہے۔