حیات بشیر — Page 75
75 آپ اس سال بھی تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمد یہ دونوں کے افسر رہے۔اسی سال حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مدرسہ احمدیہ کی ترقی اور اس کو جماعت کے لئے ایک کارآمد ادارہ بنانے کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس میں سرفہرست حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نام تھا۔اس کمیٹی نے دو ماہ کے غور وفکر کے بعد ایک مبسوط سکیم تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کی اور پھر حضور نے اس میں مناسب اصلاح کر کے اس سکیم کو جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا۔۱۳۶ ۱۹۲۰ کے واقعات ۱۹۲۰ء کے ابتداء میں حضرت خان ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر چند ماہ کی رخصت پر قادیان تشریف لائے۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فیصلہ فرمایا کہ فروری ء سے خان ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر امور عامہ ہوں گے اور ان کے کام میں مدد دینے کے لئے ناظر صغیر کے طور پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کام کریں گے۔حضور نے فرمایا گو وہ پہلے سال ناظر رہے ہیں اور کام کی ابتدائی حالت کے لحاظ سے اور اس امر کا خیال کرتے ہوئے کہ اُن کے سپرد اور بھی بہت سے کام ہیں انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے مگر سابقون الاولون کا مقدم حق سمجھ کر اور اس خیال سے کہ نوجوانوں کو پرانے تجربہ کار آدمیوں سے مل کر کام کرنے میں خود ان کی ترقی کے لئے بہت سے کار آمد سبق مل جاتے ہیں۔وہ خانصاحب کے ساتھ جائنٹ ناظر کے طور پر کام کریں گے۔۱۲۷ مئی ۲۰ ء میں رخصت ختم ہونے پر حضرت خانصاحب اپنی ملازمت پر واپس چلے گئے تو حضرت مرزا بشیرا حمد صاحب دوباره ناظر امور عامہ مقرر ہو گئے۔۱۲۸ اگست ۲۰ ء میں جبکہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ ڈلہوزی تشریف فرما تھے اچانک ایک دن حضور کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی اس پر حضور نے بذریعہ تار حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ڈلہوزی آنے کا ارشادر فرمایا۔چنانچہ حضرت میاں صاحب موصوف اسی دن ڈلہوزی تشریف لے گئے۔۱۲۹؎ جشن مسرت 9 ستمبر ۲۰ ء کو اس خوشی میں کہ مسجد احمد یہ لنڈن کے لئے زمین خرید لی گئی ہے ڈائن کنڈ میں جو ڈلہوزی سے قریباً سات میل کے فاصلہ پر ایک پر فضا مقام ہے جلسہ کیا گیا۔حضرت خلیفہ