حیات بشیر

by Other Authors

Page 74 of 568

حیات بشیر — Page 74

74 مسلمانوں کی اولاد سیزر اور سکندر اور نپولین کی سوانح عمریاں پڑھتی ہے اور ان کے حالات سے واقف ہے مگر وہ جس نے تاریکی کے وقت اُٹھ کر دنیا میں اُجالا کر دیا اور گرمی کے وقت بادل بن کر رحمت کی بارشیں برسائیں۔اُس کے حالات سے بالکل ناواقف اور نا آشنا ہیں حالانکہ اس کی بات بات میں ہزاروں علوم وفنون کے گنجینے مخفی ہیں اور اس کی ہر حرکت وسکون میں ہمارے لئے بے شمار سبق ہیں۔“ ۲۲ الفضل نے ان مضامین کو سراہا اور پہلی قسط کے شائع ہونے پر ہی لکھا: یوں تو جس دن سے ریویو آف ریلیجنز کی عنان ادارت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے دست مبارک میں آئی ہے اس میں آپ کے قلم سے نکلے ہوئے سب مضمون ایک دوسرے سے بڑھ کر مفید اور لائق تحسین شائع ہیں۔لیکن حال میں ”ہمارا آقا علی کے عنوان سے آپ نے جس مضمون کی ابتداء جنوری اور فروری ۱۹۱۹ ء کے رسالہ سے کی ہے وہ نہایت ہی قابل قدر اور مضمون سوانح رسول کریم عدلیہ کا پہلا نمبر ہے اور ان تمہیدی ہو رہے عظیم الشان ہے۔یہ الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ دکس صاف نیت اور کس شوق کے ساتھ لیکن کیسے ڈرتے ڈرتے میرا قلم اُٹھ اُٹھا ہے اسے صرف میں جانتا ہوں یا وہ جس سے کوئی چیز مخفی نہیں اور سچ پوچھئے تو صرف وہی جانتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ میں اپنی نیت کو صالح سمجھتا ہوں اور اس کی نظر میں اس کے اندر کوئی فساد ہو۔پس اسی سے نیت کی صفائی چاہتا ہوا اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوا میں اس مضمون کو شروع کرتا ہوں“ یہ الفاظ حضرت ممدوح کی طہارت قلب اور صفائی باطن کے پورے پورے مظہر ہیں۔احباب اس سے اندزاہ لگا لیں کہ رسول کریم ﷺ کی پاک اور مطہر زندگی کے حالات جب اس نیت اور ارادہ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب مرتب فرمائیں گے تو وہ کیسے روح پرور اور دلکش ہوں گے۔“۔مسائل متنازعہ فیہ اور ہمارا مسلک ۱۲۳ آپ نے اسی سال مسائل متنازعہ فیہ اور ہمارا مسلک“ کے زیر عنوان مبائعین اور غیر مبائعین کے اختلافی مسائل پر بھی ایک سیر کن تبصرہ فرمایا۔۱۲۴