حیات بشیر — Page 464
464 کے مدنظر ہم رات کو ہی لاہور سے چل پڑے اور رات کے ساڑھے تین بجے ربوہ پہنچے۔حضرت مسیح موعود سے مشابہت یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے آقا و مطاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال بھی لاہور ہی میں ہوا اور آپ کے اس جلیل القدر فرزند قمر الانبیاء نے بھی لاہور ہی میں داعی اجل کو لبیک کہا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال بھی منگل کے دن ہوا اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا بھی اور اب منگل ہی کی رات تھی جس میں حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور منگل کے دن آپ کی تدفین عمل میں آئی۔حضرت قمر الانبیاء نور اللہ مرقدہ کا جنازہ سوا دس بجے شب ایمبولینس کار میں ربوہ کے لئے روانہ ہوا۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ساڑھے تین بجے ربوہ پہنچا۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ افراد جو حضرت میاں صاحب کی علالت کے پیش نظر پہلے ہی سے لاہور میں جمع تھے ایک درجن کے قریب موٹر کاروں میں جنازہ کے ہمراہ ربوہ پہنچے۔اہل ربوہ کو وفات کے بعد ہی بذریعہ فون اطلاع کر دی گئی تھی۔لیکن چونکہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔اس لئے رات کو سونے سے حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو حضرت میاں صاحب کی وفات کی اطلاع عمداً نہ پہنچائی گئی۔صبح جب حضور اُٹھے اور حضرت میاں صاحب کے متعلق دریافت فرمایا تو حضرت ام متین نے وفات کی اطلاع دے دی اور پھر بعد میں الفضل کا پرچہ بھی سامنے کر دیا گیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں: حضور کو اس کا بے حد صدمہ اور قلق تھا لیکن پہلے دو روز بہت ضبط فرماتے رہے۔ذکر کرنے سے گریز فرماتے تھے لیکن ضبط کی وجہ سے چہرے پر سرخی آجاتی تھی ان دنوں میں بے چینی اور گھبراہٹ بھی بہت رہی۔میری بیوی سے فرمایا کہ مجھے بڑا کرب اور قلق ہے۔پھر فرمایا مجھ سے چھوٹے تھے ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا: دعا کرو قادیان واپس ملے تا یہ چکر ختم ہو ۱۵ اب ہم پھر پچھلے بیان کی طرف عود کرتے ہیں جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔اہل ربوہ کو وفات