حیات بشیر

by Other Authors

Page 465 of 568

حیات بشیر — Page 465

465 کے بعد ہی بذریعہ فون اطلاع کر دی گئی تھی اور یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ جنازہ بہت جلد ربوہ کے لئے روانہ ہو جائے گا۔اس لئے رات کے پہلے حصہ میں ہی اہل ربوہ سارے کے سارے بسوں کے اڈہ پر جمع ہوگئے تھے اور جنازہ کے پہنچنے تک اڈہ اور حضرت میاں صاحب کی کوٹھی پر جنازہ کے لئے چشم براہ تھے۔جنازہ اڈہ سے سیدھا آپ کی کوٹھی ”البشری لے جایا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد ہی علی الصبح چار بجے نعش مبارک کو غسل دینے کا انتظام کیا گیا۔غسل محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد، محترم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی اور محترم حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد نے دیا۔غسل دینے میں محترم مولوی محمد احمد صاحب جلیل ، مکرم سید مبارک احمد شاہ صاحب سرور اور مکرم حمید احمد صاحب اختر ابن مکرم عبد الرحیم صاحب مالیر کوٹلوی نے بھی حصہ لیا اور مذکورہ بالا ہر سہ اصحاب کا ہاتھ بٹایا یہ امر قابل ذکر ہے کہ جو کفن آپ کے لئے تیار ہوا تھا اس کا ایک حصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو صحابیوں حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب اور محترم خواجہ عبید اللہ صاحب نے اپنے ہاتھ سے سیا تھا۔آخری زیارت کا شرف حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کے وصال کی خبر ایک تو ریڈیو پاکستان کے ذریعہ دور و نزدیک کے علاقوں میں سنی گئی۔دوسرے مرکز کی طرف سے اہم مقامات پر تاروں کے ذریعہ اطلاع کر دی گئی اور لاہور کی جماعت کے تو سامنے کا واقعہ تھا۔اور پھر اس روز محترم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب نے طارق بس کے ذریعہ ربوہ جانے والوں سے کرایہ وصول کرنے سے بھی مینیجر صاحب کو روک دیا۔جس کے نتیجے میں وہ لوگ بھی چلے گئے جو باوجود خواہش اور تڑپ کے نہیں جا سکتے تھے۔میرا خیال ہے کہ ۳ ستمبر کی صبح تک لاہور سے ہی سینکڑوں لوگ مختلف سواریوں کے ذریعہ ربوہ پہنچ گئے تھے اور کوئٹہ اور کراچی اور بعض دوسری جگہوں کے لوگ تو ہوائی جہاز کے ذریعہ لاہور یا لائکپور ہوتے ہوئے ربوہ پہنچے۔حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل، محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی اور مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب اور بعض دیگر درویش قادیان سے تشریف لائے۔مغربی پاکستان کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جہاں سے کافی تعداد میں احمدی بلکہ بعض غیر احمدی بھی جنازہ میں شرکت کرنے کے لئے نہ پہنچے ہوں۔نیز ایک خاصی تعداد میں مستورات بھی بیرو نجات سے ربوہ آئیں۔جنہیں لجنہ اماء اللہ کے ہال میں ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا۔اخبار الفضل مورخہ ۵/ستمبر میں نعش مبارک کی آخری بار زیارت جنازہ اور تدفین کے جو