حیات بشیر

by Other Authors

Page 459 of 568

حیات بشیر — Page 459

459 میں عموماً تو Depression یعنی افسردگی اور چپ چاپ رہنے کی کیفیت ہوتی ہے مگر زیرک اور ذہین مریض جب اس افسردگی کو غیر شعوری طور پر دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو بے چینی اور گھبراہٹ کی علامات زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔بہر حال اس کا خیال تھا کہ کوئی وجہ نہیں کہ میاں صاحب اس تکلیف سے صحت یاب نہ ہوں۔حضرت میاں صاحب کے سامنے اور علیحدگی میں ہمارے پاس بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔اس نے وثوق سے کہا کہ چند ہفتوں میں بہتری کا آغاز ہو جائے گا۔اور امید ہے کہ ۲ ۳ ماہ کے اندر آپ اس Neurosis کے حملہ پر قابو پا لیں گے۔سواس انگریز ماہر کی رائے بھی ہماری رائے کے عین مطابق تھی کہ آپ کا اعصابی مرض گو تکلیف دہ ہے مگر خطرناک نہیں ہے۔اس نے چند ایک دوائیاں لکھیں وہ لاہور سے دستیاب نہ ہو سکیں۔اسی دن انگلستان سے بذریعہ کیبل گرام ان کے منگوانے کے لئے آرڈر بھیجے گئے۔ان حالات میں ہم مطمئن تھے۔“ حضرت میاں مظفر احمد صاحب نے اس انگریز ڈاکٹر کے متعلق ایک مزید بات یہ تحریر فرمائی ہے کہ ”ابا جان کو دیکھ کر ایک اور بات اس نے کہی جو احباب کی دلچسپی کے لئے لکھتا ہوں۔ابا جان کو دیکھ کر ساتھ والے کمرہ میں آیا اور کہنے لگا: He looks like Biblical Prophets۔یعنی آپ تو رات میں مذکور انبیاء کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں اسکی طبی رائے سے میری طبیعت کچھ اور مطمئن ہوگئی یہ شاید ۲۶ یا ۲۷ اگست کا دن تھا۔لیکن اگلے چند روز نے ثابت کردیا کہ بات وہی درست تھی جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ آپ کو خوابوں کے ذریعہ دے چکا تھا۔اس طبی معائنہ کے ایک ہفتہ کے اندر نمونیہ کا حملہ ہوا۔اور ڈاکٹروں کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ایک رات بخار ۷ اڈگری سے بھی اوپر چلا گیا۔اس کے بعد اکثر آخری دو تین روز اکثر وقت غنودگی میں گذرا۔اس حالت میں آپ کی زبان پر آ دعائیہ فقرات جاری تھے۔میری بیوی بتلاتی ہیں کہ کوئی کوئی لفظ سمجھ آتا تھا۔جیسے رہنا یا ایک لفظ ”طیر“ کا انہیں دھیما سا سنائی دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی میں جیسے کسی سے لمبی گفتگو کر رہے ہیں۔“ 9 66 محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب ان آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے ذرا تفصیل سے لکھتے ہیں کہ۔