حیات بشیر — Page 356
356 -۳۵ مکرم مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم مبلغ سالٹ پانڈ (افریقہ) نے اپنے خط مورخہ ۶۲-۴-۲۴ میں یکم جنوری ۶۲ تا مارچ ۲ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والے ۱۲۸ اصحاب کے متعلق رپورٹ بھجوائی جس کے جواب ( میں آپ نے تحریر فرمایا) کہ " آپ کا خط محرره ۶۲-۴-۲۴ موصول ہوا۔نو احمدیوں کی ۱۲۸ تعداد بہر حال قابل شکریہ اور قابل تعریف ہے مگر ہم تو یدخلون فی دین الله افواجا کا نظارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ قول اور عمل اور دعا کے ذریعہ خدا کی نصرتوں کو زیادہ سے زیادہ کھینچیں اور اس کے رستہ میں والہانہ جدوجہد کریں۔انشاء اللہ نیت اور محنت کا پھل ضرور ملے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔“ ۳۲ مکرم مولوی محمد منور صاحب مبلغ و امیر جماعتہائے احمدیہ ٹانگانیکا (مشرقی افریقہ) نے اپنے خط مؤرخہ ۶۲-۵-۲ میں یکم جنوری ۶۲ تا اپریل ۶۳ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والے ۷۳ افراد کے متعلق رپورٹ بھجوائی جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمایا کہ " آپ کا خط موصول ہوا۔بیعت کی رفتار واقعی تسلی بخش نہیں۔مگر موجودہ حالات میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے بہر حال جماعت کا قدم آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور صبر اور ہمت کے ساتھ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں تبلیغ کرتے رہے مگر بہت کم کامیابی ہوئی۔لیکن پھر مدینہ میں پہنچنے کے بعد ترقی کے وسیع دروازے کھل گئے۔پس آپ کوشش جاری رکھیں اور صبر و صلوۃ کے اصول پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور ٹانگا کے بعض ایسے علاقوں کی طرف توجہ دیں جہاں ابھی تک احمدیت کا پاؤں نہیں جما۔مختلف زمینوں میں بھی حق کی قبولیت کے لئے علیحدہ علیحدہ صلاحیت ہوتی ہے۔اپنا نمونہ ایسا بنائیں کہ لوگ دیکھ کر آپ کی طرف کشش محسوس کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔“ - ۳۷ المقدس مکرم میاں نسیم حسین صاحب مرحوم سابق سفیر پاکستان مقیم بیروت لبنان نے اپنے خط مورخہ ۶۲-۵-۱۲ میں تحریر فرمایا کہ بندہ اردن کے دورہ سے واپس آیا۔حسب معمول بیت اور الخلیل پر بندہ نے حضرت صاحب، حضور، سلسلہ اور پاکستان اور اسلام کے لئے خاص طور پر دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبولیت کا شرف بخشے۔نیز عید کی تقریب پر ہدیہ مبارکباد پیش کیا