حیات بشیر

by Other Authors

Page 332 of 568

حیات بشیر — Page 332

332 گئی۔مگر ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود آپ بدستور کام میں مصروف رہے۔ان ایام میں جماعت کے احباب میں حضرت اقدس کی بیماری کی وجہ سے ایک قسم کی جو تشنگی پائی جاتی تھی وہ ایک حد تک آپ سے ملاقات کر کے دور ہو جاتی تھی اور آپ کی زیارت کر کے بڑی حد تک اطمینان اور تسلی ہو جاتی تھی کیونکہ آپ ہر شخص کے دُکھ درد میں برابر کے شریک ہو جاتے تھے۔بیمار جو دعاؤں کے لئے زبانی عرض کرتے تھے یا بذریعہ خطوط دعا کی درخواست کرتے تھے وہ جب تک اچھے نہ ہو جاتے آپ ان کی برابر خبر گیری کرتے رہتے تھے۔آپ نے اس عرصہ میں جس دلجمعی اور عمدگی کے ساتھ جماعتی کاموں کو سرانجام دیا اور جس خوبی کے ساتھ نگرانی کے فرائض ادا کئے اس سے جماعت کا کوئی باخبر انسان ناواقف نہیں ہو سکتا۔جس معاملہ میں بھی آپ نے ہاتھ ڈالا اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور کامرانی کے ساتھ آپ کی مساعی کو بار آور کیا۔جس فتنہ نے سر اُٹھایا بحمد اللہ اُسے آپ نے کچل کر رکھ دیا۔مثال کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کی ضبطی اور پھر بحالی کا معاملہ کوئی معمولی امر نہ تھا مگر جس دلسوزی کے ساتھ آپ نے اس بارہ میں کام کیا ہے وہ حیران کن ہے۔دن اور رات برابر آپ اس سلسلہ میں مشغول رہے اور جب تک گورنمنٹ پاکستان نے اپنے اس آرڈر کو واپس نہیں لیا جس کے ماتحت کتاب مذکور ضبط کی گئی تھی آپ آرام سے نہیں سوئے۔1911 ء کی مجلس شوریٰ میں جماعتی اداروں کی نگرانی کے لئے ایک نگران بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اور اس بورڈ کی صدارت کے لئے ممبران شوری کی طرف سے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں متفقہ طور پر یہ درخواست کی گئی تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو اس بورڈ کا صدر مقرر کیا جائے چنانچہ جب حضور نے یہ درخواست منظور فرما لی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے جماعت کی تربیت اور ترقی کے لئے ایسے فیصلے نافذ فرمائے کہ جن کی وجہ سے جماعت کے افراد میں ترقی اور زندگی کا ایک نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔آپ نے اس امر پر بڑا زور دیا کہ جماعت کی تربیت کے لئے مرکز اور بیرونی جماعتوں کی مساجد میں قرآن کریم، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس ہونا چاہیے۔بے پردگی کے انسداد کے لئے بھی آپ نے نگران بورڈ میں فیصلہ کروا کر تمام بڑی بڑی