حیات بشیر — Page 333
333 جماعتوں کے امراء کو ہدایات بھجوائیں کہ وہ اس بارہ میں اپنے اثر ورسوخ سے کام لے کر خاص کوشش کریں اور جو لوگ اپنی بیویوں سے پردہ نہیں کرواتے انہیں اپنے عمل سے محسوس کروائیں کہ جماعت کے افراد آپ لوگوں کی اس بے راہ روی کو ہر گز پسند نہیں کرتے۔فیشن پرستی کی بڑھتی ہوئی وبا کو روکنے کے لئے بھی آپ نے پرزور آواز اٹھائی اور خطوط اور مضامین دونوں ذرائع سے کام لے کر جماعتوں کو بار بار توجہ دلائی کہ اسلامی سادگی سے کام لے کر اپنے معاشرے کو پاک اور صاف رکھیں۔آپ نے یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ مشرقی پاکستان کی جماعتیں مرکز سلسلہ سے دور ہونے اور اردو زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اس امر کی مستحق ہیں کہ وہاں کم از کم سال میں دو مرتبہ مرکز سے علماء کے وفود جایا کریں جو ان جماعتوں میں دورہ کر کے ان میں بیداری پیدا کریں۔لاہور چونکہ مغربی پاکستان کا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں سینکڑوں احمدی طلباء مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کی اکثریت ان کالجوں کے ہوٹلوں میں رہنے کی وجہ سے اس دینی اور روحانی ماحول سے ناآشنا ہے جو تنظیم کے ماتحت ایک ہوٹل میں رہ کر قائم کیا جا سکتا ہے۔اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ جلد از جلد لاہور میں ایک احمدیہ ہوٹل تعمیر کیا جائے جس میں طلباء کی کافی تعداد رہائش اختیار کر سکے اور جب تک وہ ہوٹل تیار نہ ہو اس وقت تک کوئی کوٹھی کرایہ پر لے کر ہوٹل کو جاری کر دیا جائے چنانچہ امید ہے کہ اس سال موسم گرما کی رخصتوں کے بعد یہ ہوٹل جاری کر دیا جائے گا۔آپ نے خدام الاحمدیہ کے تربیتی اجتماعات کو مفید قرار دے کر یہ فیصلہ فرمایا کہ خدام اور انصار کی تربیت کے لئے ایسے اجتماعات کثرت کے ساتھ ہر ضلع میں منعقد ہونے چاہئیں۔نیز ضلعی امراء کو تحریک فرمائی کہ وہ ضلع بھر کے عہدیداروں کی تربیت کے لئے بھی اجتماعات مقرر کروایا کریں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات کی حفاظت کے لئے ایک جماعتی میوزیم قائم کرنے کا بھی فیصلہ فرمایا اور اس کے لئے ایک کمیٹی قائم فرمائی جو آجکل کام کر رہی ہے۔رشتہ ناطہ کی مشکلات ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے جماعت کے احباب کو پریشان کر رکھا ہے۔ان مشکلات کا حل معلوم کرنے کے لئے آپ نے ایک کمیشن مقرر فرمایا جس نے جماعتوں کا دورہ کر کے بڑی محنت اور کاوش سے ایک ایسی جامع رپورٹ تیار کی کہ اگر اس پر جماعتیں عمل