حیات بشیر

by Other Authors

Page 328 of 568

حیات بشیر — Page 328

328 ۱۹۵۳ء کا حادثہ فاجعہ ابھی کل کی بات ہے جس میں پاکستان کے تمام احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا اور سلسلہ کے معاند یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے جملہ احمدی چند دن کے مہمان ہیں۔ان ایام میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے جماعتوں کو اپنے اپنے مقامات پر تسلی اور اطمینان سے مقیم رہنے کے لئے جو ہدایات جاری ہوا کرتی تھیں اس انتظام میں بھی آپ نے حضور کے ساتھ ایک مدبر وزیر کی طرح کام کیا۔پھر جب حضور پر ایک بد باطن نص کی طرف سے چاقو کا وار کیا گیا اور حضور شدید زخمی ہو گئے اور مسلسل بیماری کا دور شروع ہو گیا اس زمانہ میں تو جماعت کا رجوع اس کثرت کے ساتھ آپ کی طرف ہوگیا کہ آپ کے لئے اس بوجھ کا اٹھانا مشکل ہو گیا۔دفاتر صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید اور وقف جدید کے کارکن آپ ہدایات حاصل کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔افراد جماعت نے اپنے ذاتی اور قومی کاموں میں مشورے لینے کے لئے آپ کو خطوط لکھنے شروع کر دیے پھر جماعت کی تربیت کی فکر آپ کو ہر وقت بے چین کئے ہوئے تھی۔جماعت کی رُوحانی تربیت کا کوئی موقعہ بھی تو آپ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔رمضان کی آمد پر دوستوں کو روزے رکھنے اور صدقہ و خیرات کرنے کے بارہ میں مضامین لکھ رہے ہیں۔لیلۃ القدر کی تلاش کے لئے تحریک فرما رہے ہیں۔عیدین سے قبل احباب کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلا رہے ہیں جب ملک میں کوئی ایسی تحریک اُٹھتی ہے جس میں جماعت کی طرف سے رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔تو آپ کا قلم فوراً جنبش میں آ جاتا ہے۔چنانچہ فلسفہ قربانی اور ضبط تولید کے بارہ میں جو بے مثال رہنمائی آپ نے کی ہے وہ رہتی دنیا تک مشعل ہدایت کا کام دیتی رہے گی۔ان ساری وقتی اور ہنگامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ نے سلسلہ کی طرف سے مفوضہ فرائض کو بھی نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا۔اور علاوہ ازیں اسلامی مسائل پر ایسا مفید ، ضروری ، شاندار اور ٹھوس لٹریچر تصنیف فرمایا جو ہر زمانہ میں اسلامیات کا مطالعہ کرنے والوں کی صحیح رہنمائی کرتا رہے گا۔غرض آپ نے زندگی بھر اپنے آپ کو خدمت اسلام کے لئے وقف رکھا اور جو عہد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ابتدائی زندگی میں کیا تھا اُسے خوب نبھایا۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد مرحوم کی وفات پر آپ نے اس عہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”جب ہم شروع میں خدا کے ساتھ عہد باندھ کر سلسلہ کی خدمت میں آئے تو میری ہی تجویز پر ہم دونوں نے یہ عہد کیا تھا کہ خدا کی توفیق سے ہم ہمیشہ سلسلہ کی خدمت