حیات بشیر

by Other Authors

Page 322 of 568

حیات بشیر — Page 322

322 حضرت ڈاکٹر صاحب حضرت میاں صاحب کے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”حضرت میاں صاحب نے لاترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی کی قرآنی تعلیم کے مطابق اطاعت کامل کا نمونہ دکھایا۔آپ نے اپنی غیر معمولی علمی قابلیت کے باوجود اور اعلیٰ درجہ کی قوت گویائی کی موجودگی میں اپنی آواز کو ہمیشہ اس طرح حضرت محمود ایده اللہ بنصرہ العزیز کی آواز کے تابع رکھا جس طرح کہ ایک شاگرد اپنے اُستاد کے سامنے رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت خاص کے ماتحت گذشتہ دو تین سالوں میں حضرت میاں صاحب کی قابلیتوں اور قوت گویائی کو جماعت کے سامنے نمایاں کرنے کا موقع دیا۔جیسا کہ احباب جماعت جلسہ ہائے سالانہ کے مواقع پر اپنی خوش قسمتی سے حضرت میاں صاحب کی پُر سوز و دلربا آواز کو سن کر وجد میں آ جاتے تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کے اندر بعض خاص علمی قابلیتیں رکھی تھیں۔آپ کو دینی علوم پر وسیع عبور حاصل تھا۔پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کے مطابق ایم اے تک تعلیم پائی جس کے ذریعہ آپ کو جدید علوم کی بھی خاص قابلیت عطا ہوئی تھی۔آپ نے اس قابلیت کو بھی ہمیشہ حضرت محمود ایدہ اللہ کی تائید و نصرت میں لگائے رکھا۔“ اے صاحبزادہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب آپ کے اطاعت امام کے جذبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک طرف اطاعت کا یہ حال تھا کہ حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کے ہر حکم پر سمعنا و اطعنا کی تصویر بنے رہتے تھے تو دوسری طرف صداقت کا یہ عالم تھا کہ ایک ایسی جرأت کے ساتھ جو صرف توحید پرستوں کو حاصل ہوتی ہے اپنی کچی اور سیدھی رائے دینے سے قطعاً نہیں ہچکچاتے تھے۔خواہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی رائے اور مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔محض حضور ایدہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اپنی دلی رائے کو بدلنا آپ کا شیوہ نہیں تھا۔کئی مرتبہ آپ کو مسائل میں اختلاف ہوتا تھا کئی مرتبہ دوسرے امور میں۔فرماتے تھے کہ رائے کے اختلاف میں انسان بے اختیار ہے۔البتہ جب حضرت صاحب میری رائے کے خلاف فیصلہ فرما دیتے ہیں تو بے چون و چرا اس پر عمل کرتا ہوں۔دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بے کم وکاست