حیات بشیر — Page 321
321 ایدہ اللہ بنصرہ لکھ کر ساتھ کے ساتھ دفتر بھجواتے اور ارشاد ہوتا کہ وہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو دکھائے جائیں اور پھر کاتبوں کے حوالے کئے جائیں۔چنانچہ حضرت میاں صاحب اپنے سب کاموں کو چھوڑ کر اس کام کو پورے انہماک اور توجہ سے سر انجام دیتے۔اسی طرح جب کسی معاملہ کو حضور ایدہ اللہ بنصرہ تحقیق کے لئے آپ کے سپرد فرماتے۔تو سب سے پہلے آپ اس کام کو سرانجام دیتے۔خواہ اس کام میں رات کا کس قدر حصہ صرف ہو۔بعض دفعہ رات کے ایک ایک دو دو بجے تک اس میں منہمک رہتے۔“ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں: حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے بفضلہ تعالٰی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے منصب خلافت اور امامت کے لحاظ سے نہایت اطاعت گزاری میں عمر گزاری۔میں اپنی بصیرت کی بنا پر کہتا ہوں کہ آپ کا وصال اس راہ اطاعت میں شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔اس کا ثبوت خود حضرت میاں صاحب کے ایک مکتوب بھی ملتا ہے جو آپ نے میرے نام تحریر فرمایا۔آپ اپنے ایک خط محررہ ۵/جون ۵۷ء میں تحریر فرماتے ہیں: اعصابی تکلیف بھی کچھ بڑھ گئی ہے اور گھبراہٹ رہتی ہے۔آپ دعا فرماتے رہیں اور کبھی کبھی حضرت صاحب کی خدمت میں بھی عرض کر دیا کریں۔مجھے اکثر یہ احساس رہا ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے حضرت صاحب کو اتنا خوش نہیں رکھ سکا جتنا کہ میرے دل کی خواہش ہے اور مجھے رکھنا چاہیے۔“ آگے چل کر محترم ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: " آپ نہ صرف حضرت محمود ایدہ اللہ کے ہی جاں نثار تھے بلکہ آپ کی جاں شاری حضرت محمود ایدہ اللہ کے بچوں کے ساتھ بھی تھی۔آپ حضرت محمود ایدہ اللہ کے بچوں کے ساتھ اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے۔آج کوئی حضرت محمود ایدہ اللہ کے بچوں کی دلفگاری کا جائزہ لے کر دیکھ لے وہ یقیناً میرے اس خیال کو انشاء اللہ درست پائے گا۔“