حیات بشیر

by Other Authors

Page 320 of 568

حیات بشیر — Page 320

320 رہو اور اس معاملہ میں خود بھی دعا فرماتے رہے اور اپنے دوستوں اور بزرگوں کی خدمت میں بھی دعا کے لئے باقاعدہ لکھتے رہے۔حضور کا سلوک بھی ابا جان سے بہت شفقت کا تھا اور ہمیشہ خاص خیال رکھتے تھے اور اہم معاملات میں مشورہ بھی لیتے تھے۔ضروری تحریرات خصوصاً جو گورنمنٹ کو جانی ہوتی تھیں۔ان کے مسودات ابا جان کو بھی دکھاتے تھے اور اسکے علاوہ اہم فیصلہ جات سکیم پر عملدرآمد کا کام اکثر ابا جان کے سپرد کرتے تھے اور اس بات پر مطمئن ہوتے تھے کہ یہ کام حسب منشا اور خوش اسلوبی سے ہو جائے گا۔‘ A گو حضرت میاں صاحب کی طبیعت میں نرمی اور شفقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی لیکن جہاں دین کا معاملہ آجائے وہاں سختی کرنے سے بھی اجتناب نہیں کرتے تھے۔حضرت میاں مظفر احمد صاحب ہی کا بیان ہے کہ ” اپنے عمر بھر کے ایک دوست سے جن سے ہمیشہ بڑی شفقت سے پیش آتے اُن سے ایک مرتبہ حضور کسی جماعتی معاملہ میں ناراض ہوئے۔اس دوست نے ابا جان کو ایک ذریعہ سے پیغام بھجوایا کہ میں ملنے آنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا حضرت صاحب اس سے ناراض ہیں۔آپ کہہ دیں کہ پہلے حضرت صاحب سے معافی لے۔میں پھر ملوں گا۔یوں نہیں مل سکتا۔“ و اس واقعہ اور ایسے ہی بعض اور واقعات سے ثابت ہے کہ حضرت میاں صاحب جہاں محبت اور شفقت کے مجسمہ تھے وہاں اطاعت امام اور جماعتی شیرازہ بندی کے لئے بھی بہت بڑی غیرت رکھتے تھے۔وہ گرنے والے کی دستگیری کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور ٹھوکر کھانے والے اور روٹھے ہوئے کو منانے کے لئے آمادہ۔لیکن اگر کوئی شخص نظام جماعت سے بغاوت اور سرکشی پر مل جاتا تھا تو وہ آپ کی نظر میں کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا تھا۔محترم مولوی عبد الرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز حضرت میاں صاحب سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ان کے فیصلہ جات اور مشورہ جات کا بہت احترام فرماتے۔قادیان میں ایک دفعہ چند تبلیغی ٹریکٹ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے شائع فرمائے یعنی ندائے ایمان ، زندہ خدا کا زندہ نشان وغیرہ ان کے مضمون کو حضور