حیات بشیر

by Other Authors

Page 302 of 568

حیات بشیر — Page 302

302 ناک الفاظ میں کی گئی تھی کہ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار اب اسلام کے دائمی غلبہ اور توحید کی سر بلندی کا وقت آ رہا ہے اور دنیا دیکھ لے گی کہ مسٹر خروشیف کا بول پورا ہوتا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کی فتح کا ڈنکا بجتا ہے۔“ ۰۲ افراد جماعت کی باہمی مخاصمت کو دور کرنے کی قابلیت آپ کو ہر وقت یہ فکر دامنگیر رہتا تھا کہ سلسلہ کے افراد آپس میں صلح اور اتحاد سے رہیں اور بنیان مرصوص ہو کر سلسلہ کی ترقی اور مضبوطی کے لئے کوشاں ہوں۔محترم شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی فرماتے ہیں: کسی قضیے کو خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کرنے اور کسی جھگڑے کو بہت سہولت سے طے کرنے کی حضرت میاں صاحب میں حیرت انگیز قابلیت تھی۔جب ۱۹۴۴ ء میں مرکزی لائبریری کا لائبریرین بن کر میں قادیان آیا تو حکیم غلام حسین صاحب مرحوم وہاں پہلے سے لائبریرین تھے۔میرے وہاں پہنچنے پر بجائے ایک کے دو آدمی لائبریرین کا کام کرنے لگے۔حکیم صاحب مرحوم کا خیال تھا کہ میں ان کا ماتحت ہوں اور میں خیال کرتا تھا کہ ہم دونوں مل کر لائبریرین کا کام انجام دے رہے ہیں کوئی کسی کا ماتحت نہیں اور ہم دونوں کے افسر حضرت میاں صاحب ہیں اس بناء پر ہمیشہ آپس میں چپقلش رہتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ حکیم صاحب نے حضرت میاں صاحب سے جا کر میری شکایت کر دی کہ اسماعیل مجھ سے تعاون نہیں کرتا مگر حضرت میاں صاحب نے مجھ سے زبانی یا تحریری کچھ نہ فرمایا اور خاموش ہو رہے۔کچھ دن بعد جب میں خود کسی دفتری ضرورت سے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت میاں صاحب نے بڑی ہی محبت اور نرمی کے ساتھ مجھے نصیحت کی کہ تم دونوں کو آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے اور باہم بہت سلوک اور رواداری کے ساتھ ہمدردی اور مروت سے پیش آنا چاہیے۔“ میں نے عرض کیا کہ حکیم صاحب مجھ سے ایسے کام کرنے کو کہتے ہیں جو میرے فرائض میں سے نہیں ہیں۔اسی بنا پر جھگڑا رہتا ہے اور کوئی بات نہیں۔