حیات بشیر

by Other Authors

Page 251 of 568

حیات بشیر — Page 251

251 ہوا تھا۔اپنی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد قریباً ایک سال تک عملی طور پر فارغ رہے۔حضرت میاں صاحب کے دریافت فرمانے پر میں نے انہیں بتایا کہ آجکل وہ کوئی ملازمت وغیرہ نہیں کرتے۔تو میاں صاحب کسی قدر ناراضگی کے انداز میں فرمانے لگے (اس ناراضگی میں بھی درد و کرب کی ایک جھلک نمایاں تھی) ود مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آجکل کے نوجوانوں کو کیا ہوگیا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے 66 جیسے وہ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔۵۳ غیر از جماعت لوگوں سے ملاقات آپ کی معاملہ نہی، تدبر، پُرکشش اور پر وقار شخصیت کا یہ عالم تھا کہ ربوہ میں حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعد اگر کسی شخص کی طرف ربوہ کے زائرین کی نگاہیں اُٹھتی تھیں تو وہ آپ ہی کا وجود باجود تھا اور حضور ایدہ اللہ کے صاحب فراش ہونے کے بعد تو شاید ہی کوئی زائر ہوگا جو ربوہ آئے اور آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کئے بغیر واپس چلا جائے۔مکرم شاہد احمد صاحب بی اے فرماتے ہیں کہ: دو تین سال ہوئے ربوہ میں مجلس خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام ایک کبڈی کا ٹورنامنٹ ہوا جس میں لاہور اور دیگر شہروں سے نامور کھلاڑی شریک ہوئے۔ان کھلاڑیوں کو ربوہ کے مرکزی ادارہ جات اور دیگر مقامات کی سیر کروائی گئی۔اُن کی خواہش اور درخواست پر حضرت میاں صاحب نے بھی باوجود ناسازی طبع ملاقات کے لئے وقت دیا۔چونکہ ملنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔اس لئے ملاقات کا انتظام ایک کمرہ میں فرش پر ہی کیا گیا تھا۔آپ نے ہر ایک سے اس کا نام پوچھا۔مختصر حالات دریافت کئے اور پھر نہایت ہی عمدہ رنگ میں اسلامی نقطہ نگاہ سے صحت جسمانی کی اہمیت بتائی۔آنحضرت عمل اللہ کے زمانہ کے بعض واقعات بھی تمام ط سنائے اور اس طرح آپ نے بڑے ہی دلنشیں انداز میں ان کو زریں نصائح نوازا۔جب یہ لوگ ملاقات کر کے باہر نکلے تو آپس میں آپ کی پُروقار اور نورانی شخصیت کا نہایت ہی عمدہ رنگ میں ذکر کرتے ر۔رہے۔ہاں ایک بات کا ذکر بھول گیا۔جب ایک کھلاڑی نے یہ کہا کہ ربوہ آنے سے پیشتر ہمارے ذہنوں میں جماعت کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں تھیں۔خصوصاً نماز