حیات بشیر — Page 252
252 اور اذان کے متعلق مگر یہاں آکر آپ کی دو مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر اذان سنکر یہ غلط فہمی رفع ہو گئی ہے تو آپ نے جواباً فرمایا ”ہم نے یہ انتظام اسی لئے کیا ہے که تا اگر کسی کے ذہن میں کوئی غلط فہمی ہو تو دُور ہو جائے۔“ ۵۴ اکرام ضیف کا نمونہ اکرام ضیف کے بارہ میں بھی آپ آنحضرت علیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری پوری اتباع کیا کرتے تھے۔محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم و مغفور کا بیان ہے کہ گذشتہ سال حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے محترم مولوی عبدالرحمن صاحب اور خاکسار کو شام کے کھانے پر مدعو فرمایا۔اس دعوت میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحب سلمہ اللہ ، مولانا جلال الدین صاحب شمس اور قریشی مختار احمد صاحب ہاشمی بھی مدعو تھے۔کھانا پر تکلف تھا۔آپ نے متبسم چہرہ سے فرمایا کہ میں نے گھر میں کہا تھا کہ درویشوں کی دعوت ہے لہذا سادگی کا خیال رکھا جائے لیکن گھر والوں نے کافی تکلف کر دیا ہے۔کھانے سے فارغ ہونے پر جب آپ ہاتھ دھونے کے لئے اُٹھے تو خاکسار نے آفتابہ سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنا چاہا۔لیکن آپ نے اصرار سے منع کیا اور فرمایا ” آپ تکلیف نہ کریں۔خاکسار نے ہر چند عرض کیا کہ اس میں کچھ تکلیف نہیں بلکہ یہ عین سعادت ہے لیکن آپ نے آفتابہ اُٹھا کر خود ہی ہاتھوں پر پانی ڈالنا شروع کر دیا۔اتنے میں ایک اور دوست نے جو ربوہ کے تھے آگے بڑھ کر یہ اصرار آفتابہ لے لیا اور آپ کے ہاتھ دھلوائے۔آپ نے اکرام ضیف کا جو نمونہ ظاہر فرمایا وہ اسلام کی صحیح روح کو قائم کرنے والا ہے۔اللهم نور مرقده و قدس سره العزيز دعوت کے موقعہ پر آپ نے حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کے مختلف گروپ فوٹو بھی جو آپ نے گھر کے ایک کمرہ میں لگائے ہوئے تھے دکھائے اور ہر صحابی کے متعلق تفصیل نام بنام بیان فرمائی جو ہم سب کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوئی۔“