حیات بشیر — Page 247
247 حالت نازک ہو گئی میں گھبرا کر حضرت میاں صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوا۔اس وقت گو آپ کی طبیعت ناساز تھی مگر آپ نے مجھے فوراً اندر بلا لیا۔اور پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے اپنے والد صاحب کی شدید بیماری کا ذکر کیا۔فرمایا: وہ تو ہمارے پرانے آدمیوں میں سے ہیں۔میں ان کے لئے دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل نازل فرمائے۔“ آپ کے ان الفاظ سے مجھے بہت ہی تسلی ہو گئی۔میں جب واپس آیا تو والد صاحب کی حالت سنبھل گئی تھی۔اور شام تک طبیعت بہت بہتر ہو گئی۔ماتحتوں کی دلجوئی اور قدر افزائی ایک خاص وصف حضرت میاں صاحب میں یہ تھا کہ آپ اپنے ماتحت عملہ کی بہت دلجوئی اور قدر افزائی فرماتے تھے۔اور بلند مرتبہ ہونے کے باوجود چھوٹے چھوٹے کارکنوں کے ساتھ آپ کا سلوک بہت ہی عمدہ ہوا کرتا تھا۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر کارکن کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اسے حضرت میاں صاحب کے ماتحت کام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم فرماتے ہیں کہ تقسیم ملک سے قبل جن ایام میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ قادیان اور تحصیل بٹالہ کے ووٹوں کی تیاری کے سلسلہ میں جملہ امور کے انچارج آپ تھے۔ان دنوں بعض اوقات رات دس گیارہ بجے تک کام کرنا پڑتا تھا اور جب تک حضرت اقدس کی خدمت میں رپورٹ نہ پیش کر دی جاتی۔دفتر بند نہیں ہوتا تھا۔محترم مولوی صاحب کا بیان ہے کہ ایک روز آپ نے مجھے اپنے مکان پر طلب فرمایا اور ایک رپورٹ پڑھنے کے لئے دی۔وہ رپورٹ الیکشن کے کام کے متعلق تھی اور اسے آپ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں سندھ بھیج رہے تھے۔اس میں خاص طور پر میرے کام کی تعریف کی گئی تھی۔قریباً دو ہفتے کے بعد جب وہ رپورٹ واپس آئی تو آپ نے مجھے پھر یاد فرمایا اور مذکورہ رپورٹ کا وہ پیرا دکھایا جو میرے متعلق تھا۔اس پر حضور اقدس ایده اللہ نے جزاہ اللہ احسن الجزاء کے الفاظ تحریر فرمائے تھے۔اس پر آپ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔اور خود بھی دُعا فرمائی۔۴۹ یقیناً یہ ایک ایسی خوبی ہے جو صرف بہترین افسروں میں ہی پائی ہے عام افسر تو ماتحت عملہ سے رپورٹ تیار کروا کر اپنی طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔البتہ اگر کوئی خرابی نکل آئے تو رپورٹ