حیات بشیر — Page 239
239 دقت و زحمت نہیں تھی۔“ ہے میں سمجھتا ہوں اگر تلاش کی جائے تو اس قسم کی سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی جن سے یہ ظاہر ہوگا کہ آپ نے سلسلہ کے خدام کی کس قدر عزت افزائی کی ہے اور ان سے محبت اور الفت اور رافت سے پیش آئے مگر ایک محدود رسالہ میں چند مثالیں ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔ان مخلصین کی تو خیر خاص قربانیاں ہیں یہ خاکسار جب ایک طرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور پھر اس امر پر غور کرتا ہے کہ دعوئی واقف زندگی ہونے کا اور خدمات کے لحاظ سے خانہ بالکل خالی تو شرم اور ندامت کے مارے پانی پانی ہو جاتا ہوں۔مگر حضرت میاں صاحب کی ذرہ نوازی دیکھئے کہ ذرا ذرا سی خدمت کی بھی بہت قدردانی فرماتے تھے۔نومبر 1911 ء میں محترم مولانا قمر الدین صاحب فاضل انسپکٹر اصلاح و ارشاد اور خاکسار کو نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے بھجوایا گیا۔ڈھاکہ کے بعد جب ہم تیج گاؤں میں گئے تو وہاں کی جماعت کے ایمان اور اخلاص کو دیکھ کر ہمیں بہت خوشی حاصل ہوئی۔جب مسجد میں ساری جماعت اکٹھی ہو گئی تو ایک دوست نے اپنی ایک خواب سنائی جس میں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اُسے فرمایا تھا کہ میرے دو نمائندے تمہارے ملک میں آ رہے ہیں۔ان کی ہدایات پر عمل کرنا۔اس خواب سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم نے جماعت میں یہ تحریک کی کہ ہم آپ لوگوں کے ملک میں ایک ماہ کے دورہ پر آئے ہیں۔انشاء اللہ یہ دورہ مکمل کر کے آخر میں پھر آپ کے پاس آئیں گے۔آپ لوگوں کو چاہیے کہ ہمارے آنے سے قبل اپنے سارے بقائے صاف کر دیں اور تبلیغ دین میں دیوانہ وار مصروف ہو جائیں۔دوستوں نے وعدہ کیا کہ ہم انشاء اللہ ان دونو نصیحتوں پر عمل کریں گے ہم نے اس کاروائی کی حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کو بھی اطلاع دی۔آپ نے جواب میں جو چٹھی لکھی وہ درج ذیل ہے : مکرمی و محترمی شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسله احمدیه و مکرمی و محترمی مولوی قمر الدین صاحب انسپکٹر تربیت سلسلہ احمدیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ دونوں کے خطوط موصول ہوئے جنہیں پڑھ کر خوشی ہوئی کہ جماعت کا بیشتر حصہ ایمان اور اخلاص پر قائم ہے اور اپنی دینی اور روحانی ترقی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں میں برکت ڈالے اور ان کو اور ان کی نسلوں کو