حیات بشیر

by Other Authors

Page 238 of 568

حیات بشیر — Page 238

238 کرنے کے بعد واپس آیا ہوں۔یہ سنتے ہی حضرت میاں صاحب نے مجھے گلے لگا لیا اور خیریت دریافت فرمائی۔اس معانقہ کا جو لطف مجھے اس وقت آیا بیان سے باہر ہے۔غالباً حضرت میاں صاحب مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے نہ ہی میرے آباء کی کوئی نمایاں دینی خدمات تھیں جن کی وجہ سے سے وہ مجھے پہچان سکتے اور نہ ہی حضرت میاں صاحب کی یہ عادت تھی کہ یونہی سڑکوں پر لوگوں سے گلے ملتے پھریں۔مجھے بھی ان کے رُعب کی وجہ سے معانقہ میں پہل کرنے کی جرات نہ ہوئی۔لیکن صرف یہ سننے پر کہ میں نے چند سال افریقہ میں اشاعت دین کا کام کیا ہے۔آپ نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اس رنگ میں للہی محبت کا اظہار کیا ر اب یہ محبت میرے لئے سرمایہ حیات بن چکی ہے۔“ اگست ۱۹۶۰ ء میں جب خاکسار آٹھ سال بعد پھر ربوہ واپس گیا تو حضرت اقدس سیدنا امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دست بوسی کے بعد حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ان کے خادم عزیز محمد شریف صاحب آف دیرووال نے اندر اطلاع دی اور پیغام لائے کہ حضرت میاں صاحب کی طبیعت ناساز ہے اس لئے آج نہیں مل سکیں گے۔میں واپس لوٹ گیا۔ابھی چار ہی قدم اُٹھائے ہوں گے کہ دوسرا خادم بھاگا بھاگا آیا اور کہا کہ حضرت میاں صاحب یاد فرماتے ہیں۔میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں صاحب پلنگ پر لیٹے ہوئے ہیں۔رنگ زرد، چہرہ سے تکان اور بے چینی عیاں۔اپنے پاس ہی بستر پر بیٹھنے کا اشارہ فرمایا پھر فرمایا: رات اُمّم مظفر کو چوٹ آجانے کی وجہ سے بیخوابی رہی ہے۔ان کی بے " چینی کی وجہ سے میں بھی نہ سو سکا۔اب ضعف بھی ہے اور گھبراہٹ بھی“ یہ الفاظ سن کر مجھے بہت شرمندگی ہوئی کہ حضرت میاں صاحب کے لئے تکلیف کا باعث بنا۔لیکن اس حادثہ کا خاکسار کو مطلقاً علم نہ تھا۔بعد میں ”الفضل“ سے معلوم ہوا کہ غسل خانہ میں پاؤں پھسل جانے کی وجہ سے وجہ سے ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔اللہ اللہ! میری دستگنی کا آپ کو اس قدر احساس تھا کہ اپنی تکلیف بھول گئے۔حالانکہ اگر اس وقت ملاقات نہ ہوتی تو مجھے آپ کے در دولت پر دس مرتبہ جانے میں بھی کوئی