حیات بشیر — Page 236
236 صاحب اور مولوی صاحب سے بغل گیر ہو گئے۔اور کافی دیر تک ان سے مغربی افریقہ کے تبلیغی تربیتی اور دیگر امور پر گفتگو فرمائی۔جماعت احمدیہ کا ہر فرد جانتا ہے کہ موجودہ مبلغین میں سے حضرت مولانا جلال الدین المصا ނ سمس اور حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری دو ایسے افراد ہیں جنہوں نے بچپن لے کر اب تک سلسلہ کی عالمانہ، مخلصانہ اور بے لوث خدمات سر انجام دے کر ایک قابل رشک مقام حاصل کیا ہے۔حتی کے یہ دونوں حضرات اور مرحوم و مغفور محترم ملک عبدالرحمان صاحب خادم گجراتی حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بھی "خالد" کا خطاب حاصل کر چکے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے واقفینِ سلسلہ ،سلسلہ کی خدمت نہیں کر رہے۔ہر واقف اپنی اپنی طاقت اور قابلیت کے مطابق خدمات سلسلہ میں مصروف ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر کام میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے افراد محدود ہی ہوا کرتے ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جتنی مرتبہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اُن کے کام پر زبانی اور تحریر کے رنگ میں خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے اس کی مثال شاید دوسری جگہ نہ مل سکے میں چونکہ اپنے مضمون کے لحاظ سے اس وقت حضرت میاں صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ عنہ کی صفات حسنہ کا ذکر کر رہا ہوں۔اسلئے انہی کے ارشادات عالیہ کا ذکر کروں گا۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب ستمس فرماتے ہیں: آپ سے مل کر کام کے لئے ایک نئی امنگ دل میں پیدا ہوتی تھی اور آپ کام پر خوشنودی کا اظہار کر کے بھی کام کرنے والوں کی ہمت بڑھاتے تھے۔چنانچہ میرے ایک خط کے جواب میں جو شاید آپ نے لاہور سے لکھا تھا اپنی بیماری کا ذکر کر کے فرماتے ہیں: ” سب دوستوں کو میرا سلام اور شکریہ پہنچا دیں۔میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور آپ کی مخلصانہ خدمات پر بہت خوش ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو بہترین خدمت سے نوازے۔“ ۴۴ حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری فرماتے ہیں: سمبر 1941 ء میں جامعہ احمدیہ ربوہ کی پختہ عمارت کے افتتاح کے موقعہ پر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: