حیات بشیر — Page 237
237 اس وقت مجھے قریباً نصف صدی پہلے کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جبکہ میں مدرسہ احمدیہ کا مینیجر ہوتا تھا اس زمانہ میں ایک روز حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کریام ضلع جالندھر اور میاں امام الدین صاحب مولوی ابوالعطاء صاحب کو مدرسہ میں داخل کرانے کے لئے لائے۔اس وقت میں مدرسے کے کچے کمروں میں سے ایک کمرے میں بیٹھا تھا۔حاجی صاحب نے انہیں مدرسہ میں داخل کرنے کی سفارش کی اور میں نے انہیں داخل کر لیا۔میں جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ پھل خدا کے فضل سے شیریں ثابت ہوا اور آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو خدمت دین کی توفیق دی۔“ ۴۵۔ایک مرتبہ آپ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ: ” مجھے یاد ہے ایک دفعہ رسالہ الفرقان کے موجودہ ایڈیٹر محترم مولوی ابوالعطاء صاحب کے متعلق انکی طالبعلمی کے زمانہ میں فرمایا کہ یہ نوجوان خرچ کے معاملہ میں کچھ غیر محتاط ہے مگر بڑا ہونہار اور قابل توجہ اور قابل ہمدردی ہے۔کاش ! اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابوالعطاء صاحب اور محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے شاگردوں کے ذریعہ میری یاد زندہ ہے۔“ محترم مولوی محمد منور صاحب فاضل انچارج مبلغ ٹانگانیکا فرماتے ہیں: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مرحوم و مغفو رضی اللہ عنہ کی عظیم الشان علمی اور قلمی خدمات کی وجہ سے مجھے طالب علمی کے زمانہ سے ہی اُن سے بڑی محبت تھی۔ان کی پاکیزہ، مدلل اور پر جوش تحریرات عقل کو جلا اور ایمان کو استقامت بخشتی تھیں لیکن ان کے خدا داد رُعب اور اپنے طبعی حجاب کی وجہ سے میں نے اُن سے کبھی بات کرنے کی جرأت نہ کی۔یہاں تک کہ ۱۹۴۸ء میں مجھے مشرقی افریقہ بھیجوا دیا گیا۔یہاں آکر بھی میں نے ان کی خدمت میں کبھی خط نہ نومبر ۱۹۵۲ ء میں جب خاکسار رخصت پر پاکستان گیا تو اتفاق۔مسجد مبارک ربوہ کے قریب ہی حضرت میاں صاحب سے ملاقات ہو گئی اور مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔نیز عرض کیا کہ میں مشرقی افریقہ میں چار سال فریضہ تبلیغ ادا لکھا۔-۲ -٣