حیات بشیر — Page 235
235 قسیم ملک کے بعد جب پہلی بار جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جانے کی اجازت ملی تو ( میرا نکاح ہو چکا تھا اور رخصتانہ ابھی نہیں ہوا تھا) حضرت میاں صاحب نے ہم بہن بھائیوں اور محترمہ والدہ صاحبہ میں سے کسی ایک کو بھجوانے کی بجائے میرے خاوند شیخ خورشید احمد صاحب کو بھجوایا اور ابا جان کو خط لکھا کہ میں شیخ صاحب کو بھجوا رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ آپ کو ان سے مل کر زیادہ خوشی اور اطمینان حاصل ہوگا۔یہ بعض لحاظ سے آپ کے لئے بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔“ ۴۳ غرض قادیان کے درویشوں کے ساتھ آپ کی محبت شفقت اور رافت ایک ایسی واضح حقیقت تھی جس سے کوئی باخبر احمدی ناواقف نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی ان میں سے بیمار ہوتا تو آپ اس کے علاج کے لئے ہر ممکن تدابیر اختیار فرماتے۔الفضل میں دعا کی تحریک کرتے۔قابل سے قابل ڈاکٹروں کے مشورہ سے ادویہ کا انتظام فرماتے۔اور اگر کوئی فوت ہو جاتا تو آپ یوں محسوس کرتے جیسے کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے۔بیماری کی حالت میں تکلیف اُٹھا کر بھی اس کا جنازہ پڑھاتے اور کندھا دیتے۔اس کے پسماندگان سے زبانی بھی اور بذریعہ خطوط بھی اظہار ہمدردی فرماتے۔متوفی کے نیک اوصاف کا ذکر الفضل میں کرتے۔اور اس کے درجات کی بلندی کے لئے دعاؤں کی تحریک فرماتے اور بعد میں بھی اس کے عزیزوں اور متعلقین کا ہمیشہ خیال رکھتے اللهم صل على محمد و آل محمد۔واقفین زندگی کا احترام یہی سلوک آپ کا سلسلہ کے لئے زندگی وقف کرنے والے احباب کے ساتھ تھا۔مکرمی بشارت احمد صاحب امروہی فرماتے ہیں: تقسیم ملک کے بعد ابھی آپ کا دفتر جو دھا مل بلڈنگ میں ہی تھا کہ محترم مولوی عبدالحق صاحب تنگلی مغربی افریقہ میں فریضہ تبلیغ سر انجام دے کر واپس تشریف لائے۔انہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملاقات کی خواہش کی۔میں انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔اس وقت آپ ایک نہایت ہی ضروری تصنیف میں مصروف تھے۔مجھے دیکھ کر کچھ کبیدہ خاطر ہوئے۔لیکن جونہی میں نے یہ عرض کی کہ یہ مولوی صاحب مغربی افریقہ میں تبلیغی خدمات سر انجام دے کر واپس تشریف لائے ہیں تو آپ کے چہرہ پر بشاشت کی ایک لہر دوڑ گئی۔اسی وقت قلم ہاتھ سے چھوڑ دیا۔اُٹھے