حیات بشیر — Page 202
202 فرماتے ہوئے میرے تمام روزوں کو قبول فرمایا۔اور میری خواہش کے عین مطابق ان کی قبولیت کا نشان ظاہر فرمایا۔“۱۵ محترم مولانا محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغہ زود نویسی ربوہ کا بیان ہے کہ ان سے محترم مولانا برکات احمد صاحب راجیکی نے اس واقعہ کی تفصیل بھی بیان فرمائی تھی اور وہ یہ تھی کہ حضرت قمر الانبیاء نور اللہ مرقدہ نے یہ دعا کی تھی کہ۔”میرا جو روزہ مقبول ہو جائے اس کی قبولیت کا ظاہری نشان یہ ظاہر فرما کہ اس کی افطاری میں خود نہ کروں بلکہ باہر سے میرے لئے افطاری کا سامان آئے۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ پورے تیس روزوں کی افطاری آپ کو باہر سے آئی۔11 ہر کام میں رضاء الہی کی جستجو آپ میں ایک نمایاں وصف یہ بھی تھا کہ آپ اپنے سارے کام ابتغاء لوجہ اللہ کیا کرتے تھے۔مولوی فخر الدین صاحب ملتانی قادیان میں تاجر کتب تھے۔جماعت سے علیحدہ کئے جانے سے قبل عموماً وہی آپ کی کتابیں شائع کیا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں: چونکہ مجھے تصنیف کا شوق تھا۔میں اپنی اکثر کتابیں انہیں دیدیا کرتا تھا اور وہ انہیں چھپوا کر اُخروی ثواب کے ساتھ ساتھ دنیوی فائدہ بھی حاصل کرتے تھے۔میں نے کبھی کسی تصنیف کے بدلہ میں اُن سے کسی رنگ میں کچھ نہیں لیا حتی کہ میں ان سے خود اپنی تصنیف کردہ کتاب کا نسخہ بھی قیمتاً خریدا کرتا تھا۔میاں فخر الدین صاحب کو بسا اوقات اصرار ہوتا تھا کہ اپنی تصنیف کا کم از کم ایک نسخہ تو ہدیۂ لے لیا کرو۔مگر میں ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کر دیا کرتا تھا کہ یہ بھی ایک گونہ معاوضہ ہے اور میں اس معاملہ میں معاوضہ سے اپنے ثواب کو مکدر نہیں کرنا چاہتا “ کلے رضا بالقضا کا عملی نمونہ آپ کے رُوحانی حسن کا ایک دلکش پہلو یہ ہے کہ آپ ہر حالت عُسر ويسر میں رنج و راحت میں تقدیر الہی پر راضی رہتے تھے اور شکوہ و شکایت کو کبھی بھی زبان پر نہیں لاتے تھے۔۱۹۴۰ء میں آپ کے چھوٹے بھائی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امتہ الودود بیگم عین جوانی میں اچانک وفات پا گئیں۔صدمہ نہایت شدید تھا مگر آپ کے صبر ورضا کا یہ عالم تھا کہ آپ نے ایک مضمون میں تحریر فرمایا: