حیات بشیر — Page 203
203 عزیزه امتة الودود یقیناً شجرہ خاندان مسیح کی ایک پاکیزہ کلی تھی جس کی لپٹی ہوئی نازک پنکھڑیاں آنے والے پھول کے تصور سے دل میں خوشی پیدا کرتی تھیں۔مگر جس باغ کی وہ کلی تھی وہ ہمارا لگایا ہوا باغ نہیں بلکہ ہمارے آسمانی باپ کا لگایا ہوا باغ ہے۔اور اگر ہمارا یہ ازلی ابدی باغبان کسی وقت کسی مصلحت سے اپنے لگائے ہوئے باغ میں سے پھول کی بجائے کلی کو توڑنا پسند کرتا ہے تو اس پر کسی دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں۔بیج بھی اس کا ہے۔پورا بھی اس کا ہے، پہلی بھی اس کی ہے اور پھول بھی اس کا ہے اور باغ کی زمین اور باغ کی ہوا اور باغ کا ہر ذرہ اس کی ملکیت ہے۔پس اس کا حق ہے کہ جس طرح چاہے اپنے باغ میں تصرف کرے۔جس پودے کو چاہے رکھے اور جسے چاہے کاٹ دے جس کلی کو چاہے پھول بننے دے اور جسے چاہے کلی کی صورت میں ہی توڑ ڈالے۔لا يسئل عما يفعل وهم يسئلون اسی طرح ۱۹۵۱ء کا ذکر ہے ایک دوست نے آپ کی خیریت مزاج دریافت کی تو آپ نے فرمایا: ہاں شکر ہے میں اپنے خدا پر بالکل راضی ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ خدا پر تو ہر شخص راضی ہوتا ہے آپ نے فرمایا: ”بے شک یہ درست ہے کہ کوئی شخص شرح صدر سے راضی ہوتا ہے اور کوئی اس مجبوری کی وجہ سے راضی ہوتا ہے کہ خدا کی تقدیر کو قبول کرنے کے بغیر چارہ نہیں لیکن الحمد للہ میں اپنے خدا پر شرح صدر سے راضی ہوں۔“ آپ فرماتے ہیں۔وہ دوست تو مسکرا کر چلے گئے مگر میں اپنی جگہ سوچ میں پڑ گیا اور اپنے نفس سے پوچھنے لگا کہ تو نے یہ الفاظ تو کہ دیے مگر کیا تو واقعی اپنے خدا پر شرح صدر سے راضی ہے؟ اور اس کی ہر تقدیر کو خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ شرح صدر سے قبول کرتا ہے؟ آپ فرماتے ہیں: میں نے اپنے دل کے سارے گوشوں میں جھانک کر اور کونے کو نے کا جائزہ لے کر آخر یہی نتیجہ نکالا کہ میں خدا کے فضل سے اور اسی کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اپنے خدا اور اس کی ہر تقدیر پر پورے شرح صدر کے ساتھ راضی ہوں۔19۔