حیات بشیر

by Other Authors

Page 201 of 568

حیات بشیر — Page 201

201 66 پاتا۔آپ کی خوراک خوراک آپ کی بہت سادہ ہوا کرتی تھی۔امراء کی طرح ہمیشہ پر تکلف اور مرغن کھانوں کے دلداہ نہیں تھے۔کھمبیاں اور پالک کا ساگ بھی جو گوشت میں پکا ہوا ہو آپ شوق سے کھایا کرتے تھے۔ہجرت کے بعد چونکہ مشکلات کا زمانہ تھا اس لئے صبح کی چائے کے ساتھ گھنے ہوئے چنے کھا کر بھی گزارا کر لیتے تھے۔غرضیکہ کسی چیز کی خاص عادت نہیں تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ نشہ کا تو کیا سوال ساری عمر مجھے کبھی کسی غیر منشی چیز کی بھی عادت نہیں پڑی حتی کہ جب میں سمجھتا ہوں کہ چائے کی بھی عادت سی ہو چلی ہے تو کچھ دیر کے لئے اُسے بھی ترک کر دیتا ہوں۔۱۴ پھلوں کو بھی پسند فرماتے تھے۔خصوصا عمدہ قسم کے آم اور کیلے آپ کو بہت پسند تھے۔عشق الہی سے معمور دل جیسا کہ ذیلی عنوان سے ظاہر ہے آپ کا دل ہر وقت عشق الہی سے معمور رہتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ بھی آپ کی اس محبت و وفا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا مگر آپ حدیث نبوی كَلَّمُوا النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمُ کے ماتحت ہر شخص سے اس کے فہم اور قابلیت کے مطابق کلام کیا کرتے تھے۔محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم ناظر امور عامہ قادیان جو سلسلہ کے جید عالم اور اہل دل صوفی حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ عنہ کے لائق اور قابل فرزند تھے۔اُن کا بیان ہے کہ: چھ سات سال کی بات ہے کہ خاکسار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس وقت ماہ رمضان کو گذرے ابھی چند دن ہوئے تھے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے راز ونیاز کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دفعہ رمضان المبارک کے شروع پہلے میں نے اللہ تعالیٰ کے احسانات بے پایاں اور اس کی رحمت و رافت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی جناب میں عرض کیا کہ اے خدا تو میرے روزوں کو قبول فرما اور میرا جو روزہ مقبول ہو جائے اس کی قبولیت کا ایک ظاہری نشان نازل فرما۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری اس درخواست کو منظور ہونے سے