حیات بشیر — Page 172
172 والوں کی زندگیوں میں پاک تبدیلی پیدا فرمائے۔۱۸ھے کے موضوع پر آ پکی چوتھی تقریر ذكر حبيب ۲۸ دسمبر کو ذکر حبیب کے موضوع پر آپ کی تقریر تھی مگر بیماری کی وجہ سے جلسہ گاہ میں تشریف نہ لا سکے اس لئے آپ کا مضمون مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنایا۔اس مضمون کا عنوان آپ نے آئینہ جمال تجویز فرمایا تھا۔ساڑھے تین بجے بعد دو پہر جبکہ مکرم مولانا شمس صاحب تقریر کا آخری حصہ پڑھ رہے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے آپ کی موجودگی میں تقریر ختم کی۔تقریر کے بعد حضرت میاں صاحب نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ افسوس ہے میں آج طبیعت کی خرابی کے باعث اپنی تقریر کو خود پڑھ کر نہیں سنا سکا اور نہ اس کے دوران موجود رہ سکا ہوں۔اللہ تعالیٰ سب خوبیوں کا سرچشمہ ہے اگر اس کے فضل وکرم سے اس تقریر میں دوستوں کے لئے کوئی فائدہ کی بات ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ دوست اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔اس کے بعد آپ نے خدام الاحمدیہ کا علم انعامی لاکپور کی مجلس کو عطا فرمایا اور پھر حضرت میاں صاحب نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا وہ پیغام پڑھ کر سنایا جو حضور نے از راہ شفقت لکھ کر ارسال فرمایا تھا۔۱۹ھے بلبل ہیں صحن باغ سے دُور اور شکستہ پر جلسہ سالانہ کے انہی ایام میں آپ نے قادیان کے جلسہ سالانہ کے لئے بھی ایک پیغام ارسال فرمایا اور اس کے آخر میں لکھا ہم آپ لوگوں کی نیک کوششوں میں روحانی جدوجہد کے لحاظ سے آپ کے ساتھ ہیں۔مگر جسمانی لحاظ سے ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ؎ روحانی سحر بلبل ہیں صحن باغ سے دور اور پروانہ ہیں چراغ ނ دور اور ۶۳ء کے حالات شکسته شکسته جنوری ۷۳ء کے آخر میں درنشین اردو کا ایک تازہ ایڈیشن محترم شیخ محمد اسماعیل صاحب پتی نے بلاک تیار کروا کے شائع کیا۔اس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں موصول ہوئی تو