حیات بشیر — Page 171
171 درخواست کی گئی۔چنانچہ آپ نے اس کے لئے ایک پیغام تحریر کیا جو پڑھ کر سنایا گیا۔آپ نے اس میں لکھا کہ پڑھانے والیوں اور پڑھنے والیوں میں بہت گہرا رابطہ قائم ہونا چاہیے تا کہ وہ ایک خاندان کے طور پر زندگی گزاریں۔پڑھانے والیاں ہر لحاظ سے پڑھنے والیوں کے لئے نمونہ بنیں اور پڑھنے والیاں اس ذوق اور شوق کے ساتھ کام کریں جو اعلی ترقی تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔“ شاھے اپنی صحت کے متعلق اعلان نومبر ۶۲ء میں آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ یہ عاجز قریباً ڈیڑھ ماہ سے مسلسل جسمانی اور دماغی کمزوری میں مبتلا چلا آتا ہے اور یہ کمزوری بڑھتی جاتی ہے اور سوچنے اور کام کرنے اور مضمون لکھنے کی طاقت بہت کم ہوگئی ہے اور ایک عجیب قسم کی بے چینی اور گھبراہٹ بھی لاحق رہتی ہے۔“ آپ نے یہ بھی لکھا کہ ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب ماہر امراض قلب مجھے دیکھنے کے لئے لاہور سے تشریف لائے تھے انہوں نے پورے معائنہ کے بعد بتایا کہ میرے دل میں کافی کمزوری پیدا ہو چکی ہے۔یعنی دل ڈاکٹری اصطلاح میں DAMAGE ہو چکا ہے اور یہ حالت خطرہ کا موجب ہو سکتی ہے اس لئے انہوں نے مجھے کم از کم تین ہفتہ گھر میں ٹھہر کر مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔دوست میری صحت کے لئے دعا کرتے رہیں۔میں اب قمری لحاظ سے بہتر سال کا ہوگیا ہوں اور یہ عمر بہر حال کمزوری کی عمر ہے اس لئے دوستوں سے کچھ عرصہ کے لئے معذرت خواہ ہوں والا مربيد الله ولاحول ولا قوة الا بالله۔۵۱۲ے ۶ دسمبر کو آپ علاج کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے اور ۲۲ دسمبر کو ربوہ واپس تشریف لے آئے۔اس علاج سے آپ کے دل کی حالت خدا کے فضل سے قدرے بہتر ہو گئی۔۵۷ے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا افتتاحی پیغام ۲۶ دسمبر ۶۲ ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاح کے موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ناسازی طبع کے باوجود سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا افتتاحی پیغام پڑھ کر سنایا اور پھر احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو ہر جہت سے مبارک کرے اور اس میں شریک ہونیوالوں اور اسکی برکات سے فائدہ اُٹھانے