حیات بشیر — Page 152
152 مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی وفات پر آپکے تاثرات ۲۸ فروری کو حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی وفات ہوئی تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک نوٹ میں تحریر فرمایا کہ کل جب مجھے چوہدری صاحب مرحوم کے جنازہ کی نماز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تو مجھے بعض خیالات کے غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے نماز پڑھانی مشکل ہوگئی۔بار بار یہ خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ لوگ گذرتے جاتے ہیں مگر ان کی جگہ لینے کے لئے نئے آدمی اس رفتار سے تیار نہیں ہو رہے۔جیسا کہ ہونے چاہئیں اور پھر جو نئے لوگ تیار ہو رہے ہیں وہ عموماً اس للہیت اور اس جذبہ خدمت کے مالک نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔بیشک بعض بہت قابل رشک نوجوان بھی پیدا ہو رہے ہیں مگر کثرت وقلت کا فرق اتنا ظاہر وعیاں ہے کہ کوئی سمجھدار شخص اس فرق کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔“ آپ فرماتے ہیں کہ ان خیالات نے میرے دماغ پر ایسا غلبہ پایا کہ بعض اوقات مسنون دعاؤں کو بھول کر میں اس دعا میں لگ جاتا تھا کہ خدایا تیری ممیت والی صفت جب زندوں کو مار رہی ہے تو تو اپنے فضل و کرم سے اپنی محی والی صفت کے ماتحت مرنیوالوں کی جگہ لینے کے لئے ہم میں ساتھ ساتھ زندہ وجود بھی پیدا کرتا چلا جا۔تا جماعت میں کسی قسم کا خلا یا کمزوری نہ آنے پائے۔“ گھبراہٹ اور پریشانی دور کرنے کے تین مجرب نسخے اپریل ۶ء میں ایک احمدی خاتون کا خط آپ کو ملا جس نے اپنی بعض پریشانیوں کا ذکر کر کے آپ سے مشورہ مانگا تھا۔آپ نے اسے لکھا کہ ”جب آپ کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہو تو اس کے لئے تین نسخے اختیار کیا کریں۔یعنی یا تو قرآن کریم کی تلاوت کیا کریں جو ہمارے آسمانی آقا کا بابرکت کلام اور سراسر رحمت ہے یا نماز میں دل کی تسلی پانے کی کوشش کیا کریں جو گویا خالق و مخلوق کے درمیان ملاقات کا رنگ رکھتی ہے اور یا اپنے ماحول کو بدل کر ایسے