حیات بشیر — Page 105
105 کا حال ہے کہ وہ بھی خدا کی نصرت کو اپنی طاقت اور ظرف کے مطابق قبول کرتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ کی برداشت نہیں رکھتے۔“ اس مثال کے بعد آپ نے فرمایا: وو ” گو خدا وہی ہے اور وہی رہے گا مگر اس کی نصرت کا اظہار نصرت حاصل کرنے والے کے ظرف اور قوت جذب پر موقوف ہے اور یقیناً خدا نے حضرت خلیفة اسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو جو ظرف عطا کیا ہے وہ ایک غیر معمولی ظرف ہے جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔پس آپ سے محروم ہونے سے ہم صرف آپ کی ذات سے ہی محروم نہیں ہوں گے بلکہ ان خدائی جلوہ نمائیوں سے بھی محروم ہو جائیں گے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔“ ۲۵۵ رابطہ اف 66 ۲۳ / دسمبر ۲۰ ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے انتظامات جلسہ سالانہ کا معائنہ فرمایا تو ارشاد فرمایا کہ: ایک ایسا افسر بھی ہونا چاہیے کہ اگر کسی طرف سے کسی لحاظ سے کوئی کمی یا نقص محسوس ہو تو وہ کلی اختیار رکھتا ہو تا کہ دوسری جگہ سے فوری طور پر اس کمی کو پورا اور نقص دور کر سکے۔“ عرض کیا گیا کہ اس غرض کیلئے چار آدمیوں کی ایک کمیٹی مقرر ہے۔آپ نے فرمایا: ر بعض اوقات اتنا وقت نہیں ہوتا کہ کمیٹی بیٹھ کر فیصلہ کر سکے اور نہ ہی دیگر کاموں کیوجہ سے افسر جلسہ سالانہ کو کوئی کمی پورا کرنے کی فرصت ہوتی ہے۔اس کیلئے ایک خاص آدمی ہونا چاہیے تاکہ جونہی اسکے پاس کسی جگہ سے سامان یا کارکنوں وغیرہ کی کمی یا کسی ، نقص کی اطلاع پہنچنے تو وہ ہنگامی صورت میں اپنے اختیارات خصوصی سے انتظام کر سکے۔“ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں کمیٹی کی طرف سے اس غرض کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مقرر کئے گئے۔۲۵۶ سيرة خاتم النبیین کی تیاری ۲۰ جنوری ۴۱ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب "ناظر تالیف و تصنیف مقرر کئے گئے۔مگر اس کام سے آپ جلد ہی سیرۃ خاتم النبین عملے کی تعمیل کے لئے فارغ کر دیے گئے۔اکتوبر ۴ء میں آپ نے اپنے کام کی صدر انجمن احمدیہ میں رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ: