حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 101 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 101

حیات بقا پوری 101 صاحب جب مجھے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے تو میں نے کہا۔کہ آپ مجھے چھڑانے کے لئے نہ آئیں ورنہ زیادہ ہنگامہ ہو گا۔اسے اپنا جوش نکال لینے دیں۔چنانچہ اس نے مجھے تین چار کے مارے۔میں خاموشی سے کھڑا مار کھا رہا تھا۔اس پر اس نے مجھے ایک غلیظ گالی دے کر کہا۔یہ تو مٹی کا ڈھیر ہے اسے محسوس بھی نہیں ہوتا۔ہنگامہ برپا کرنے کے بعد اس مولوی نے لوگوں کو کہا۔کہ یہاں سے چلو ورنہ سب کا فر ہو جاؤ گے۔اور مجھے کہا۔تم یہاں سے چلے جاؤ۔ہم مرزائی نہیں ہوں گے۔اور جاتے ہوئے کہ گیا کہ صبح اس مرزائی کی خوب خبر لی جائے گی۔یہاں تک کہ چار پائی پر ڈال کر اسے یہاں سے لے جایا جائیگا۔اور میاں محمد دین صاحب احمد کی دکان دار کو جن کے کوٹھے پر یہ وقوعہ ہوا کہا کہ تجھ کو بھی گاؤں سے نکال دیا جائے گا۔غرض اور تو سب لوگ چلے گئے لیکن تین چار نوجوان بیٹھے رہے اور افسوس کرنے لگے کہ ان لوگوں نے آپ کو ناحق مارا۔میں نے کہا کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اپنے خیال میں صحابہ کرام کو تکلیف دینا کارثواب سمجھتے تھے۔اسی طرح یہ بھی مجھے تکلیف دینے کو ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔اس حادثہ کے بعد مجھے سب سے زیادہ افسوس اس امر کا بھی ہوا کہ میری وجہ سے اس غریب احمدی کو بھی گاؤں سے نکلنا پڑے گا۔اور میاں محمد دین صاحب کو یہ افسوس تھا کہ میرے مکان پر مولوی صاحب کی بے عزتی ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں پر عجیب کرشمہ قدرت رکھا یا۔اور دست بدست ان ظالموں کو ایسا پکڑا کہ وہ دست درازی کرنے کی جرات ہی نہ کر سکے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک مسیح موعود کیلئے ایسی غیرت دکھائی کہ راتوں رات مارنے والے اور ان کے پیش امام مولوی دونوں پر خدا کی لعنت برسی۔چنانچہ جب صبح سید محمد شاہ صاحب حوائج ضروریہ کے لئے گاؤں سے باہر گئے۔اور اس خوف میں تھے کہ کہیں وہ شریر مفسدرات والے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔شاہ صاحب نے دیکھا کہ گاؤں کے اکثر زمیندار مختلف ٹولیوں کی شکل میں گروہ در گروہ بیٹھے ہوئے آپس میں کچھ مشورے کر رہے ہیں۔شاہ صاحب جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے شاہ صاحب کو بلا کر کہا۔کہ ہم مرزا صاحب کو نبی تو نہیں مانتے اور نہ ہی اس کے کسی معجزے کے قائل ہیں۔لیکن رات والے مرزائی کی ولایت اور کرامت کے ہم قائل ہو گئے ہیں جسے سکے پڑے تھے۔کیونکہ مارنے والے شخص کی نوجوان لڑکی کو وہی مولوی جو گاؤ ں کا پیش امام تھا رات کو اغوا کر کے بھاگ گیا ہے۔اور ہم اس کے پکڑنے کے لئے مختلف اطراف میں آدمی بھیجنے والے ہیں۔جب شاہ صاحب نے میرے پاس آکر اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ واقعہ سنایا تو میں اسی وقت سجدہ میں گر گیا۔اور اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کیا۔اس کے بعد ان لوگوں نے مجھے اونٹ پر سوار کر کے لالہ موسی اسٹیشن تک پہنچا دیا۔جب اس واقعہ کی اطلاع چوہدری محمد دین صاحب (رضی اللہ عنہ ) نے حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی