حیاتِ بقاپوری — Page 100
حیات بقاپوری 100 ۹۳ ای کا واقعہ ہے کہ خاکسار اپنے حلقہ ضلع گجرات جہلم اور سرگودھا میں تبلیغی خدمات انجام دے رہا تھا۔کہ ایک دن مضلع گجرات کے ایک گاؤں رولیا بنیاں میں پہنچا۔جہاں صرف ایک احمدی میاں محمد دین صاحب دکان دار تھے۔میری آمد کی اطلاع پا کر چوہدری محمد دین صاحب کے والد ماجد چوہدری فضل احمد صاحب بی۔اے۔حال نائب نا ظر تعلیم و تربیت ربوہ اور سید محمد شاہ صاحب کورٹ دفعدار پنشنز اپنے اپنے گاؤں سے تشریف لائے۔آخر تجویز یہ ہوئی کہ رات اس گاؤں میں میری ایک تبلیغی تقریر ہو جائے۔چنانچہ جس مکان میں میں ٹھہرا ہوا تھا۔رات کو کو ٹھے پر تقریر کرنے کیلئے جب میں کھڑا ہوا تو قریب کی مسجد سے چالیس پچاس غیر احمدی بھی عشاء کے بعد آگئے۔جو اکثر زمیندار تھے۔جن میں ان کی مسجد کا امام بھی تھا۔جب میں نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقریر شروع کی تو لوگ نہایت شوق اور خاموشی سے میری تقریریشن رہے تھے اور ان پر اچھا اثر ہو رہا تھا۔جس کو وہ مولوی برداشت نہیں کر سکا اور غصہ میں آکر لوگوں کو میرے خلاف بھڑ کا یا کہ ارے بے غیر تو ! یہ مرزائی تمہارے گاؤں میں کوٹھوں پر کھڑے ہو کر مرزا کی صداقت بیان کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے سن رہے ہو۔پکڑ لو اس مردود کو۔اس کا اتنا کہنا تھا کہ لوگ مجھ پر پل پڑے۔ان میں سے ایک شخص مجھے کے مار رہا تھا۔چوہدری فضل احمد صاحب کے والد صاحب جب مجھے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے تو میں نے کہا۔کہ آپ مجھے چھڑانے کے لئے نہ آئیں ورنہ زیادہ ہنگامہ ہوگا۔اسے اپنا جوش نکال لینے دیں۔چنانچہ اس نے مجھے تین چار کمکے مارے۔میں خاموشی سے کھڑا مار کھا رہا تھا۔اس پر اس نے مجھے ایک غلیظ گالی دے کر کہا۔یہ تو مٹی کا ڈھیر ہے اسے محسوس بھی نہیں ہوتا۔ہنگامہ برپا کرنے کے بعد اس مولوی نے لوگوں کو کہا۔کہ یہاں سے چلو ورنہ سب کا فر ہو جاؤ گے۔اور مجھے کہا۔تم یہاں سے چلے جاؤ۔ہم مرزائی نہیں ہوں گے۔اور جاتے ہوئے کہ گیا کہ صبح اس مرزائی کی خوب خبر لی جائے گی۔یہاں تک کہ چار پائی پر ڈال کر اسے یہاں سے لے جایا جائیگا۔اور میاں محمد دین صاحب احمدی دکان دار کو جن کے کوٹھے پر یہ وقوعہ ہوا کہا کہ تجھ کو بھی گاؤں سے نکال دیا جائے گا۔غرض اور تو سب لوگ چلے گئے لیکن تین چار نو جوان بیٹھے رہے اور افسوس کرنے لگے کہ ان لوگوں نے آپ کو ناحق مارا۔میں نے کہا کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اپنے خیال میں صحابہ کرام کو تکلیف دینا کارثواب سمجھتے تھے۔اسی طرح یہ بھی مجھے تکلیف دینے کو ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔اس حادثہ کے بعد مجھے سب سے زیادہ افسوس اس امر کا بھی ہوا کہ میری وجہ سے اس غریب احمدی کو بھی گاؤں سے نکلنا پڑے گا۔اور میاں محمد دین صاحب کو یہ افسوس تھا کہ میرے مکان پر مولوی صاحب کی بے عزتی ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں پر عجیب کرشمہ قدرت دکھایا۔اور دست بدست ان ظالموں کو ایسا پکڑا کہ وہ دست درازی کرنے کی جرات ہی نہ کر سکے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک مسیح موعود کیلئے ایسی غیرت دکھائی کہ راتوں رات