حیاتِ بقاپوری — Page 272
حیات بقاپوری 272 ہوتا ہے۔اس وقت بھی چونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے۔اور خداشناسی اور خدارسی کی راہیں نظر نہیں آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔اور محض اپنے فضل و کرم سے اس نے مجھ کو مبعوث کیا ہے۔تاکہ میں ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور بے خبر ہیں۔اس کی اطلاع دوں۔اور نہ صرف اطلاع بلکہ جو صدق اور صبر اور وفاداری کے ساتھ اس طرف آئیں۔انہیں خدا تعالیٰ کو دکھلا دوں۔اس بناء پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا انت منی وا نا منک (الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ء) ۱۱۷۔قبر میں سوال وجواب:۔ایک شخص کا سوال پیش ہوا۔کہ قبر میں سوال و جواب روح سے ہوتا ہے۔یا جسم میں روح ڈالا ہوتا ہے۔فرمایا:۔اس پر ایمان لانا چاہئیے کہ قبر میں انسان سے سوال و جواب ہوتا ہے۔لیکن اس کی تفصیل اور کیفیت کو خدا پر چھوڑنا چاہئیے۔یہ معاملہ انسان کا خدا کے ساتھ ہے۔وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔پھر قبر کا لفظ بھی وسیع ہے۔جب انسان مرجاتا ہے تو اس کی حالت بعد الموت میں جہاں خدا اس کو رکھتا ہے۔وہی قبر ہے۔خواہ وہ دریا میں غرق ہو جائے۔خواہ وہ جل جائے۔خواہ زمین پر پڑا رہے دنیا میں انتقال کے بعد انسان قبر میں ہے۔اور اس سے مطالبات و مواخذات جو ہوتے ہیں۔اس کی تفصیل کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ اس دن کے واسطے تیاری کرے۔نہ کہ اس کی کیفیت معلوم کرنے کے پیچھے پڑ جائے۔(الحکم ۷ افروری ۱۹۷ء) ۱۱۸۔نکاح ثانی کا سبب:۔ایک شخص کا سوال پیش ہوا۔کہ میری پہلی بیوی کو جلدی اولاد ہو جاتی ہے۔جس کے باعث وہ کمزور ہوگئی ہے۔کیا میں دوسرا نکاح کر سکتا ہوں یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا اس کو بہر صورت اختیار ہے“ (الحکم ۱۔فروری ۱۹۷ء)