حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 271 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 271

حیات بقاپوری 271 ۱۱۶۔دعا کی قبولیت اور الہام انت منی و انا منک کی حقیقت:۔حقیقت میں دعا کرنا بڑا ہی مشکل ہے۔جب تک کہ انسان پورے صدق وصفا کے ساتھ اور صبر واستقلال سے دعا میں نہ لگا رہے۔تو کچھ فاہدہ نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں۔جو دعا کرتے ہیں۔مگر بڑی بے دلی اور عجلت سے چاہتے ہیں کہ ایک ہی دن میں ان کی دعا مشمر بہ ثمرات ہو جاوے۔حالانکہ یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے۔اس نے ہر کام کے لئے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔اور جس قدر کام دنیا میں ہورہے ہیں وہ تدریجی ہیں۔اگر چہ وہ قادر ہے کہ ایک طرفہ العین میں جو چاہے سوکر دے۔اور ایک گن سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔مگر دنیا میں اس نے اپنا یہی قانون رکھا ہے۔اس لئے دعا کرتے وقت آدمی کو اس کے نتیجے کے ظاہر ہونے کیلئے گھبرانا نہیں چاہیئے۔یہ بھی یاد رکھو کہ دعا اپنی زبان میں بھی کر سکتے ہو۔بلکہ چاہئیے کہ مسنون ادعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دعا کرے۔دعا نماز کا مغز اور روح ہے۔اور رسمی نماز جب تک اس میں روح نہ ہو کچھ نہیں۔اور روح کو پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہو۔اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے۔اور ایک اضطراب اور قلق اس کے دل میں ہو۔اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی۔جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے۔غرض دعا کے ساتھ صدق اور وفا کو طلب کرے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وفاداری کے ساتھ فنا ہوکر کامل نیستی کی صورت اختیار کرے۔اس نیستی سے ایک ہستی پیدا ہوتی ہے۔جس سے وہ اس بات کا حقدار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کہے۔انت منی اصل حقیقت است منی کی تو یہ ہے۔اور عام طور پر ظاہر ہی ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے۔اب اس کے بعد ایک اور حصہ اس الہام کا ہے۔جوانا منک ہے۔پس اس کی حقیقت سمجھنے کے واسطے یہ یاد رکھنا چاہئیے۔کہ ایسا انسان جو نیستی کے کامل درجہ پر پہنچ کر ایک نئی زندگی اور حیات طیبہ حاصل کر چکا ہے۔اور جس کو خدا تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔انت منی۔جو اس کے قرب اور معرفت الہی کی حقیقت سے آشنا ہونے کی دلیل ہے۔اور یہ انسان خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت اور جلال کے ظہور کا موجب ہوا کرتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک عینی اور زندہ ثبوت ہوتا ہے۔اس رنگ سے اور اس لحاظ سے گویا خدا تعالیٰ کا ظہور اس میں ہو کر رہتا ہے۔۔اور خدا تعالیٰ کے ظہور کا ایک آئینہ ہوتا ہے۔اس حالت میں جب ان کا وجود خدا نما آئینہ ہو، اللہ تعالیٰ ان کے لئے یہ کہتا ہے۔انا منک۔ایسا انسان جس کو انسا منک کی آواز آتی ہے۔اس وقت دنیا میں آتا ہے جب خدا پرستی کا نام دنیا سے مٹ گیا