حیاتِ بقاپوری — Page 261
حیات بقا پوری 261 ۱۰۰۔تعویذ کا باندھنا یا دم کرانا:۔جولائی ۱۹۰۳ ء - استفسار تعویذ کا باندھنا یادم کرانا کیسا ہے؟ بجواب حضرت اقدس نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا۔کہ آپ نے احادیث میں اسکے متعلق کچھ پڑھا ہے؟ عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید جب جنگوں میں جایا کرتے تھے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک پگڑی یا ٹوپی میں رکھ لیا کرتے تھے۔اور آگے کی طرف لٹکا لیتے۔اور جب ایک دفعہ آنحضرت صلعم نے سرمنڈوایا تو آدھے سر کے کئے ہوئے بال ایک شخص کو دیدئے اور دوسرے آدھے حصے کے باقی بال اصحاب کو بانٹ دئے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے۔اور وہ شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک عورت نے آپ کا پسینہ بھی جمع کیا تھا۔یہ شکر حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔کہ ان تعویذوں اور دموں کی اصل کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔جو خالی از فائدہ نہیں۔میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے اس سے بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو ہو گا جو بادشاہ ایسا کریں گے۔اصل بات یہ ہے کہ ان باتوں کی بناء محبت واخلاص پر ہے۔صادقوں کی نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ بزرگوں کے صغائر پر نظر کرنے سے سلب ایمان کا اندیشہ ہے۔(الحکم ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ء)۔ساس بہو کے تعلقات:- ایک لڑکی کی اُس کی ساس کے ساتھ کچھ اچھی طرح نہیں بنتی تھی۔لڑکی نے برسبیل شکایت اور گلہ کچھ عورتوں کے سامنے کہا کہ بُر امقام ہے کہ جس میں میری ساس وغیرہ رہتے ہیں۔آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے اس کو بہت بُرا منایا کہ شہر تو کوئی برا ہوتا ہی نہیں۔اگر کسی شہر کو بُرا کہا جائے تو اس سے مراد اُسکے شہر والے ہوتے ہیں۔پس نہایت قابل افسوس ہے اُس عورت کی حالت جو ایسا فقرہ اپنی زبان پر لاتی ہے۔اور اس طرح اپنے خاوند اور اس کے والدین کی بُرائی کرتی ہے۔اور اس کے بعد اس عورت کو بہت سمجھایا اور کہا کہ خدا تعالیٰ ایسی باتیں پسند نہیں کرتا۔یہ مرض عورتوں میں بہت کثرت سے ہوا کرتا ہے۔کہ وہ ذراسی بات پر بگڑ کر اپنے خاوند کو بہت کچھ بُرا بھلا