حیاتِ بقاپوری — Page 260
حیات بقا پوری 260 بعض نقلی۔کہ انہوں نے نصوص قرآنیہ سے ہی اس سلسلہ کو پہچانا ہے۔اس طرح پر مختلف طریق سے آئے ہوئے ہیں (الحکم ۳۰ اپریل ۱۹۰۳ء) ۹۷۔وجود اعداء ہمارا نقارہ ہے:۔فرمایا۔اعداء کا وجود بھی ہمارا ایک نقارہ ہے۔جو اعلان کا باعث ہو رہا ہے۔نقارے بھی تو کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک دشمن کا وجود بھی ہے۔مثنوی رومی میں ایک حکائت لکھی ہے۔کہ ایک شخص کسی کے مکان میں نقب لگا رہا تھا۔اس صاحب مکان کا پڑوی کہیں ادھر آنکلا۔اُس نے چور سے پوچھا کہ تو کیا کرتا ہے۔؟ چور نے جواب دیا کہ میں ڈھول بجاتا ہوں۔اُس نے کہا کہ اس سے آواز نہیں آتی۔چور نے کہا کہ کل صبح کو ٹوسن لیگا کہ اس سے کیسی آواز آتی ہے۔اس طرح پر یہ اعداء ہمارے نقارے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں۔(الحکم ۳۰ اپریل ۱۹۰۳ء) ۹۸۔گناہ کا علاج:۔کیا علاج کروں؟ ایک شخص نے سوال پیش کیا کہ میرے سے گناہ ہو جاتا ہے۔اور پھر تو بہ کر لیتا ہوں۔پھر گناہ ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔پھر تو بہ کرلو۔اس کا اور کیا علاج ہے۔( یعنی تو بہ یکی کرلو) (الحکم اپریل ۱۹۰۷ء) ۹۹ - الحمد للہ۔جزاکم الله :- جلسہ سالانہ ۱۹۰۲ء پر مکرم میر حامد شاہ صاحب، چوہدری نصر اللہ خاں صاحب، حافظ مولوی محمد فیض الدین صاحب، خاکسار اور جماعت سیالکوٹ کے بعض اور احباب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔میر حامد شاہ صاحب نے ایک تھیلی روپوں کی نذرانے میں پیش کی۔حضور علیہ السلام نے تھیلی اپنے دست مبارک میں لیتے ہوئے فرمایا الحمدللہ اور پھر فرما یا جزاکم اللہ۔