حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 262 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 262

حیات بقاپوری 262 کہتی ہیں۔بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں حالانکہ وہ اس کے خاوند کے بھی قابل عزت بزرگ ہیں۔وہ اس کو معمولی بات سمجھ لیتی ہیں۔اور اُن سے لڑنا دہ ایسا ہی بجھتی ہیں جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا کرنا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضا جوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے۔یہانتک کہ حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کریں کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے تو اُس لڑکے کو چاہیے کہ وہ طلاق دیدے۔پس جبکہ ایک عورت کو ساس اور سسر کے کہنے پر طلاق مل سکتی ہے تو اور کونسی بات رہ گئی۔اس لئے ہر ایک عورت کو چاہئیے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین کی خدمت میں لگی رہے۔اور دیکھو کہ عورت جو اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے۔اگر وہ اسکی خدمت کرتی ہے تو وہ اسکی پرورش کرتا ہے۔مگر والدین تو بچے سے کچھ نہیں لیتے۔وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لیکر اسکی جوانی تک اس کی خبر گیری کرتے ہیں اور بغیر کسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں۔اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو اس کا بیاہ کرتے اور اس کی آئندہ بہبودی کیلئے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بوجھ آپ اٹھانے اور آئندہ زمانے کیلئے کسی کام کے کرنیکے قابل ہو جاتا ہے۔تو کس خیال سے اسکی بیوی اسکو اپنے ماں باپ سے جدا کرنا چاہتی ہے۔اور ذرہ ہی بات پر سب و شتم پر اتر آتی ہے۔اور یہ ایک ایسانا پسندیدہ فعل ہے جس کو خدا تعالیٰ اور مخلوق دونوں نا پسند کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان پر دو ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد۔پھر اسکے دو حصے کئے ہیں یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرمانبرداری دوسرے مخلوق الہی کی بہبودی کا خیال۔اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس اور سسر کی خدمت اور اطاعت۔پس کیا بد قسمت ہے وہ عورت جو ان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے۔حقوق اللہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ وہ اس طرح خدا کے حکم کو بھی ٹالتی ہے۔(الحکم ۳۱ مارچ ۱۹۰۷ء) ۱۰۱۔غیر اللہ پر چڑھاوے چڑھانا:۔ایک بھائی نے عرض کی۔کہ حضور بکر اوغیرہ جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں۔کیا ان کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟ شریعت کی بناوری پر ہے سختی پر نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اهل به لِغَیرِ الله (۱۷۴۲) سے