حیاتِ بقاپوری — Page 193
حیات بقاپوری 193 اچھل کر گردن کے قریب آگیا ہوں۔اور گھوڑی ٹھیر کر کچھ چرنے لگی ہے اور میں گرانہیں، بلکہ اطمینان سے گردن پر بیٹھا ہوا ہوں۔اور دیکھا کہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بھی مع ایک شخص کے میرے پاس سے گزرے۔اور یوں معلوم ہوا کہ حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود بھی سامنے سے تشریف لا رہے ہیں۔اس رویا میں میں نے ایک آواز سنی کہ: وہ بحال ہو جائے گا (ج) اسی طرح مورخہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۵۴ء کو آنکھ کھلی تو زبان پر یہ جاری تھا: پھر بحالت غنودگی زبان پر جاری ہوا: الحمد لله رب العلمين و یعزک (یا یوں فقرہ تھا) و یعزونک۔اسی وقت عزیزم محمد اسماعیل کو اطلاع کر دی گئی۔اور تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تم باعزت بری ہو جاؤ گے۔(د) نیز ان ہی دنوں میں یہ بھی القاء ہوا: فتح بنام اسماعیل (0) ایک اور موقع پر عزیز کیلئے دعا کرنے پر آواز آئی: پانچ ماہ بعد جس کی تصدیق واقعات کی رو سے یوں ہوئی۔کہ ۱۷ مئی ۱۹۵۵ء کو انکوائری ختم ہوئی۔مگر فیصلہ جلد نہ کیا گیا۔اور حکمت الہی سے الہام کی صداقت کے ظہور کی خاطر پورے پانچ ماہ کے وقفہ کے بعد ۱۷۔اکتوبر ۱۹۵۵ء کو بریت کا حکم سنایا گیا۔(و) ایک اور موقعہ پر القاء ہوا: یعنی مقررہ میعاد تک رہائی پائے گا۔إلى أَجَلٍ مُسمى (ز) نیز ایک موقعہ پر یہ بھی الہام ہوا: یعنی رہائی مقدمہ میں گنتی کے دن باقی ہیں۔أَيَّامًا مَّعْدُودَة