حیاتِ بقاپوری — Page 194
حیات بقاپوری 194 (ح) ایک اور موقعہ پر الہام ہوا :- صلح تبليغ والصلح خير (ط) ایک اور موقعہ پر دیکھا کہ میری خوشدامن صاحبہ کہتی ہیں محمد اسماعیل کی خراب شدہ مشین مرمت ہو کر آئی ہے۔اور جب لانے والے سے مرمت کی رقم پوچھی گئی تو کہتا ہے کہ اگر مرمت کی مزدوری لینی ہوتی تو میں نہ بنا تا۔اور میں نے دیکھا کہ وہ مشین بالکل ٹھیک کام کے لائق ہو گئی ہے۔چنانچہ اس کی تعبیر یہ نکلی کہ محمداسماعیل دوبارہ ملازمت پر بحال ہو گیا۔فالحمد لله۔۱۱۶ ۱۱۔اپریل ۱۹۵۵ ء کو دیکھا کہ مولوی نورالدین صاحب منیر نے مجھے ایک چھوٹا سا پختہ آم دیا ہے، جسے میں نے بہت پسند کیا۔پاس ہی مولوی سیف الرحمن صاحب بھی کھڑے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس آم سے ان کا بھی تعلق ہے۔(چنانچہ بعد میں اس کی تعبیر یوں نکلی کہ مولوی نورالدین صاحب منیر کی طرف سے کچھ روپے مولوی سیف الرحمن صاحب کی معرفت پہنچ گئے۔پھر دیکھا کہ احمدیوں کا مفسدوں سے مقابلہ ہے۔اور احمدیوں کے دفاتر بڑے میدان میں ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ وہاں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔اور آپ کی میری طرف خاص توجہ ہے۔کام خوب خوشی سے کروارہے ہیں۔۱۱۷۔ایضاً۔اسی تاریخ کو مولوی نورالحق صاحب کے بیٹے مشہور الحق صاحب کی صحت یابی کے لئے بھی دعا کی۔تو دیکھا کہ میری بیوی میرے کپڑوں کو صابن لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔پھر جب آنکھ کھلی تو زبان پر جاری تھا: انیس سو قادر جس کی تفہیم یہ ہوئی کہ وہ قادر ہے خواہ انیس سو بیمار بھی ہوں، تو دعا کی قبولیت کے نشان میں سب کو صحت بخش سکتا ہے۔۱۱۸ ۲۰ اپریل ۱۹۵۵ء کومحمد طفیل ولد محمد زبیر صاحب کے امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کر رہا تھا کہ القاء ہوا: يسر