حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 176 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 176

حیات بقاپوری 176 ۶۸ - ۱۰ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جب میں نیند سے بیدار ہوا تو زبان پر جاری تھا: چونچہ ۵۵ چھونچہ ۵۶ ( پچپن چھپن )۔ممکن ہے ان سالوں میں کوئی اہم واقعہ ہو۔بعد میں واقعات کی رو سے الہام کی حقیقت کا انکشاف یوں ہوا کہ ۱۹۵۵ء میں جب حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بسلسلہ بیماری علاج کے لیے یورپ تشریف لے گئے تو حضور کی عدم موجودگی سے فائدہ اُٹھا کر باغیان خلافت نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر دی اور واپس تشریف لانے پر حضور نے ۱۹۵۶ء میں اس فتنہ کی آگ کو بجھا دیا جو اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔اور ان فتنہ پردازوں کو جماعت سے خارج فرما کر اس رستے ہوئے ناسور کے زہر سے جماعت کو پاک و مصفا فر ما دیا۔اللهم صل وسلم و بارک علی محمد و آل محمد و علی عبد المسيح الموعود و آله وخلفائه۔۲۹ ۱۵ مارچ ۱۹۵۳ء کو میں نے صبح سات بجے حضرت مولوی راجیکی صاحب کے گھر سے چائے پینے کے لیے منگوائی۔تو مکرم عزیز احمد صاحب را جیکی مجھے چائے پلانے کے لیے اپنے گھر سے ناشتہ لائے اور فرمایا۔میں اس لیے چائے پلانے کے لیے آیا ہوں کہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے خواب میں فرمایا ہے۔” مجھے چائے پلاؤ۔-۷۰ ۱۲ فروری ۱۹۵۴ء کو دیکھا کہ بقا پور کی مسجد میں پرالی بچھی ہوئی ہے اس میں سانپ ہے۔میرے ہاتھ میں ایک تنکا ہے میں اس کے مارنے کے لیے کوئی لکٹری ڈھونڈتا ہوں کہ وہ غائب ہو گیا۔یکا یک وہ پھر حرکت کرنے لگا اور پرالی پر دوڑنے لگا۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ تنکا جو میرے ہاتھ میں تھا وہ ایک لوہے کی سلاخ بن گئی ہے جس کے ایک سرے پر تاروں کا گچھا ہے کہ اتنے میں وہ سانپ پھر حرکت کرنے لگا۔میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو ایسا گم ہوا کہ اس کا کوئی نشان ہی نہیں اور میں اس کی طرف سے بے فکر ہو گیا۔یہ خواب اس طرح سے پوری ہوئی کہ ۱۸۔فروری ۱۹۵۴ء کی رات کو مجھے سخت ضعف قلب کا دورہ ہوا۔پہلی دفعہ دوا دینے سے قدرے افاقہ ہوا۔پھر دورہ ہوا، پھر افاقہ ہوا، پھر تیسری دفعہ سخت دورہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بکلی آرام آگیا۔الحمد للہ۔۷۱ ۱۲ دسمبر ۱۹۵۱ء کو دیکھا کہ احمدی جنگ کر رہے ہیں۔میں نے بھی لوہے کے ہتھیار سے ایک دو مخالفوں کا خون بہایا ہے اور دل مطمئن ہے۔من