حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 175 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 175

حیات بقا پوری 175 ۶۴۔ماڈل ٹاؤن کی کوٹھی کے متعلق جو میرے بیٹے میجر ڈاکٹر محمد اسحاق کے نام الاٹ ہوئی ہے دعا کی گئی تو ۱۳ دسمبر ۱۹۵۰ء کو یہ کشف دیکھا: لحاف ٹانکنے کے واسطے تا گا کی ضرورت ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے بہت سا دھاگہ حاصل کیا ہے۔فرماتے ہیں مجھے بھی ایک شخص نے بھیجا ہے اور مجھے وہ کہتا ہے کہ آپ اپنے کاغذ پر فلاں شخص کے دستخط کرا دو۔میں کہتا ہوں، وہ کہتے تھے وہی دستخط کر دیں گے۔یعنی آپ۔اس پر وہ حاکم میری رعایت کرتے ہوئے مجھے دھا گہ دے دیتا ہے۔میں اس کو دعا دیتے ہوئے آگیا۔(اور دل میں کہتا ہوں ) گو تھوڑا دیا ہے مگر میرے لیے کافی ہے۔چنانچہ اس کے بعد کوٹھی کے کرایہ وغیرہ کا معاملہ بخیر و خوبی طے پا گیا۔-۶۵ ۲۳ دسمبر ۱۹۵۳ء کو دیکھا چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں ایک سانپ میرے سر کی طرف آرہا ہے اور ڈسنا چاہتا ہے۔میں نے اُسے ہاتھ سے پکڑ کر کچل دیا ہے اور وہ مرگیا ہے۔اس وقت میں نے عزیز ڈاکٹر محمد الحق بقا پوری کی کامیابی کے واسطے دعا کی تھی۔اس سے اس کو اطلاع دی گئی چنانچہ وہ بفضل تعالیٰ اپنے مقصد میں اخیر فروری ۱۹۵۳ء سے کامیاب ہو گیا ہوا ہے۔۶۶ - ۲۴ مئی ۱۹۵۱ ءر دیاء میں دیکھا کہ حج بیت اللہ کے لیے جارہا ہوں اور قریب پہنچ گیا ہوں لیکن بیت اللہ کی عمارت مجھے نظر نہیں آتی۔میرے ہمراہ میری بیٹی مبارکہ بیگم بھی ہے۔ایک شخص کہتا ہے ابھی تو ( تعمیم ) بھی آنا ہے۔میں نے ایک منارہ مسجد شاہی لاہور کی طرح اور صفا و مروہ پہاڑیاں دیکھیں۔۶۷ ۱۵ جولائی ۱۹۵۷ء دیکھا کہ میں بقا پور براستہ ایمن آباد جارہا ہوں کہ مجھے یاد آیا کہ فلاں ضروری کاغذرہ گیا ہے اس کے لانے کے لیے واپس لوٹا ہوں اور دل میں کہتا ہوں کہ اب ایک دن بعد بقا پور جاسکوں گا۔بقا پور جانے کی تعبیر دار آخرت کو جانے کی معلوم ہوتی ہے۔ضروری کاغذ سے مراد دین کے اہم کام ہیں۔جن کے سرانجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مہلت بخشی ہے۔ایک دن سے کتنی مدت مراد ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ممکن ہے ضروری کاغذ سے مراد 'حیات بقا پوری کی اشاعت ہو۔