حیاتِ بقاپوری — Page 177
حیات بقا پوری 177 ۷۲ ۱۳ مارچ ۱۹۵۰ء کو دیکھا احمدیوں کی فوج لڑائی کے لیے جارہی ہے اور سکھوں کی فوج بھی ہے وہ بھی تیاری کر رہی ہے۔مجھے ایک سکھ نے کسی پلائی ہے اور دوسرے دوسکھ لوہے کا کوئی ٹکڑا گرم کر کے میری پنڈلی پر لگاتے ہیں مگر مجھے اس کی جلن محسوس نہیں ہوتی وہ مداہنت کے طور پر مجھ سے خوشامد بھی کرتے ہیں۔میں اپنی گھڑی اسباب اور سوشا جو بہت محمدہ ہے ان سے مانگتا ہوں۔دینے کو کہتے ہیں۔۷۳ ۱۴ مارچ ۱۹۵۰ ء دیکھا شدید لڑائی کی وجہ سے احمدی جماعت قادیان میں مصروف جنگ ہے اور تکلیف میں ہے۔پھر نقشہ بدل گیا۔۷۴ ۲۰ اپریل ۱۹۵۳ء کو مکرمہ بھابی زینب نے آکر کہا کہ حضرت امی جان نے آپ کو ( خاکسار بقا پوری کو) کہا ہے کہ عزیز ناصر احمد اور اس کے چا جان کی رہائی کے واسطے دعا کریں اور جواللہ تعالیٰ سے اطلاع پائیں اس سے مطلع کریں۔اس پر خاکسار نے رات کو دعا کرنی شروع کی۔دعا کر رہا تھا کہ زبان پر جاری ہوا: پانچ دن یا پانچ ہفتہ یا پانچ ماہ صبح اس خوشخبری کی اطلاع حضرت محترمہ آپا جان ام ناصر احمد صاحبہ کو مکر مہ بھابی زینب کی زبانی پہنچادی گئی۔الحمد للہ کہ پورے پانچ ہفتہ گذرنے پر ہر دو حضرات صاحبزادگان بفضل تعالی رہائی پاگئے اور مکرم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ دس ارمضان المبارک مطابق ۲۵ مئی ربوہ تشریف لے آئے۔الحمد للہ علی ذالک۔-۷۵ ۹ ستمبر ۱۹۵۵ء مجھے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب باجوہ وکیل منٹگمری کا خط موصول ہوا کہ ہمارا گاؤں اس سیلاب کی زد میں آ رہا ہے جود یہات کو گرا تا آرہا ہے۔اب سوائے دعا کے کوئی چارہ نہیں۔آپ اس کے بچاؤ کے لیے دعا فرما ئیں۔میں نے دعا کرنی شروع کی۔دوسرے تیسرے دن میں نے خواب دیکھا کہ میں ان کے گاؤں کے باہر کھڑا ہوں۔سیلاب اُن کے گاؤں کے نزدیک آ گیا ہے اور اسے گرانے لگا ہے۔یہ دیکھ کر میں کہتا ہوں، اے خدا تو اس گاؤں کو بچالے کیونکہ یہ احمدیوں کا گاؤں ہے۔“ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ سیلاب وہیں کھڑا ہو گیا ہے اور گاؤں صحیح سالم بچ گیا ہے۔چنانچہ گاؤں کا سیلاب سے بچنا غیر احمدیوں کے لیے احمدیت کی صداقت کا ایک نشان کئی مہینوں تک رہا۔اس بارہ میں چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری کا جو خط مجھے آیادہ یہ ہے:۔