حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 131 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 131

حیات بقاپوری 131 یہ سوال کہ خلیفہ ایک انجمن ہو یا ایک شخص ہو۔یعنی شخصیت ہو یا جمہوریت؟ اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کے حال جانتا ہے، خود ہی قرآن شریف میں فرما دیا ہے۔ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم۔یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھی اسی طرح خلیفے بنائے گا جس طرح اُس نے پہلے لوگوں میں بنائے تھے۔اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ایک یہ کہ مسلمانوں میں خلافت ضرور ہو گی۔جس پر ليست خلفتهم میں حرف لام اور نون ثقیلہ دلالت کرتا ہے۔دوسری یہ کہ مسلمانوں میں اللہ تعالی ویسے ہی خلیفے بنائیگا جیسے اُس نے پہلوں میں بنائے تھے۔اب اگر پہلی امتوں میں نبیوں کے بعد انجمنیں خلیفہ بنتی تھیں تو اب بھی انجمن کو ہی خلیفہ ہونا چاہیئے۔اور اگر پہلی امتوں میں شخص واحد ہی نبی کا قائم مقام ہوتا رہا ہے۔تو اب بھی شخص واحد ہی قائم مقام ہو گا۔جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خلیفہ ایک ہی شخص یوشع ہوا ہے۔ایسے ہی حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ایک ہی شخص حضرت ابو بکر صدیق ہوئے اور ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ ایک ہی شخص حضرت مولانا نورالدین صاحب پہلے خلیفہ ہوئے۔اور آئندہ بھی انشاء اللہ شخص واحد ہی خلیفہ ہوتا رہے گا۔کیونکہ لفظ کھا اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔خلافت کا ثبوت حدیث سے:۔احادیث سے ثابت ہے کہ خلیفہ کا وجود ضروری ہے۔اور خلیفہ شخص واحد ہی ہوتا ہے۔اور آنحضرت صلعم نے بھی جمہوریت کو قائم نہیں کیا۔بلکہ خلافت کو قائم کیا ہے۔اور یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کرام کو وصیت فرمائی کہ میرے بعد اختلافات پھیلیں گے تم میرے خلفاء کی شدت پر عمل کرنا، انہیں کے طریق پر چلنا۔اوصيكم بتقوى الله و السمع والطاعة وان كان عبداً حبشيا فانه من يعش منكم بعدى فسيرى اختلافاً كثيراً فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدى تمسکو بها و عضو عليها بالنواجزايا كم و محدثات الأمور میں تمہیں تقویٰ، اطاعت اور فرمانبرداری کی ہدایت کرتا ہوں خواہ تم پر کوئی بشی غلام ہی سردار کیوں نہ ہو۔کیونکہ میرے بعد جو زندہ رہیں گے وہ جلد ہی دیکھ لیں گے کہ اُمت میں اختلاف بہت بڑھ جائے گا۔پس تم کو لازم ہے کہ میری اور میرے راشد اور مہدی خلفاء کی سنت کو مضبوط پکڑنا اور اس کو چھوڑ نا نہیں۔اور نئی نئی باتیں جو نکلیں اُن سے بچتے رہنا۔