حیاتِ بقاپوری — Page 105
حیات بقا پوری 105 (۲) امام حسین رضی اللہ عنہ کو علماء وقت یزیدیوں نے شہید کر دیا۔(۳) امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کو علماء وقت نے کفر کا فتویٰ لگا کر جیل میں ڈلوایا اور جیل میں ہی آپ کی وفات ہوئی۔انا لله و انا اليه راجعون۔(۴) حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی پر وقت کے عالم ابوالفرح ابن جوزی نے کفر کا فتویٰ لگایا۔(۵) بزرگ ولی منصور رحمتہ اللہ علیہ کو علماء وقت نے سولی پر چڑھایا۔(۶) حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کی کھال اتروائی۔ماموں جی کس کس کا ذکر کروں کوئی خدا رسیدہ بزرگ ان عالموں سے نہیں بچا۔ان مولویوں کی مخالفت دلیل ہے مرزا صاحب کی صداقت کی۔کیونکہ لوگ بچے کی مخالفت کرتے ہیں نہ کہ جھوٹے کی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب اور اسود عنسی نے دعلو ہائے نبوت کئے۔انکی کسی نے مخالفت نہ کی۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ تکالیف پہنچائیں کہ الامان۔آپ سب کچھ جان کر پھر ان مولویوں پر اپنے ایمان کا دارومد ار رکھتے ہیں۔ماموں صاحب نے سب باتیں سنکر یہی کہا کہ مجھے تبلیغ نہ کیا کرو۔۶۵۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معجزہ میں ایک دفعہ چک نمبر ۸۸ علاقہ سرگودھا کی مسجد میں بیٹا تبلیغ کر رہا تھا کہ حاضرین میں سے ایک شخص نے مجھے کہا کہ مرزا صاحب کی تبلیغ تو آپ کرتے رہتے ہیں، لیکن کوئی معجزہ نہیں بتلاتے۔میں نے کہا ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزار ہا معجزے دکھائے۔لیکن جس طرح پہلوں نے اپنے نبیوں اور اماموں کے معجزات کا انکار کیا۔اُسی طرح آپ لوگ بھی انکار کر رہے ہیں۔کہنے لگا دیکھو معجزہ کھلا کھلا ہوتا ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا مگر خدا تعالیٰ نے اُن کو صحیح سلامت بچالیا۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریا میں سے مع اُن کے اصحاب کے صحیح سلامت پار کر دیا۔اور نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا معجزه قرآن شریف اب تک زندہ موجود ہے کہ اس کی مثل کوئی نہیں بنا سکتا۔اس طرح کا کوئی کھلا کھلا معجزہ مرزا صاحب کا بتلاؤ۔میں نے کہا لو بھائیو خاموشی سے سنو! تین معجزے بیان کرتا ہوں۔(۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں سیالکوٹ میں تھے۔ایک دن بارش ہو رہی تھی اور بجلی چمک رہی تھی ، کہ اس کمرے میں بجلی داخل ہو گئی۔اور سارا کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔اور قریب تھا کہ بجلی پھٹ جائے۔مگر بجلی