حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 77 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 77

حیات بقا پوری 77 کیونکہ قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتے ہیں فقد لحن فيهم محمر امن قَبْلِهِ اللَا تَعْقِلُونَ (۱۷:۱۰)۔اس چیلنچ پر کئی سال گزر گئے مگر آج تک کسی شخص کو اس کے قبول کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔جب آپ کی دعویٰ سے پہلی زندگی پاک اور بے عیب ہے تو یہ قرآنی دلیل کی رو سے آپ کی صداقت کی اظہر من الشمس علامت ثابت ہوتی ہے۔اور دعوے کے بعد آپ لوگوں کے اعتراضات ویسے ہی ہیں۔جیسا کہ دیگر مکذبین انبیاء ورسل نے اپنے وقت کے نبیوں اور رسولوں پر کئے۔اس پر مولوی ثناء اللہ نے کہا کہ دعوئی سے پہلے اور پچھلے اعتراضوں میں کوئی فرق نہیں جس طرح قمیض کو آگے کی طرف نجاست لگ جائے یا پیچھے کی طرف بہر حال وہ پلید ہے۔دیکھو قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔قائد لكتاب عزيز - لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خَلْفِهِ (۴۲۰۴۱ ۴۳) یعنی قرآن شریف پر آگے اور پیچھے سے اعتراض نہیں پڑتا۔میں نے کہا آپ کی مثال بھی غلط اور آیت سے استدلال بھی خلاف واقعہ۔کیونکہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ اگر آگے سے قمیض پھٹی ہوئی ہو تو زلیخا عزیز مصر کی عورت سچی اور حضرت یوسف علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) جھوٹے اور اگر پیچھے سے قمیض پھٹی ہوئی ہو تو حضرت یوسف علیہ السلام بچے اور وہ عورت جھوٹی۔اسی طرح دعوی سے پہلی زندگی پر اگر اعتراض ہو تو معترضین بچے اور اگر دعوے کے بعد کوئی عیب نکالیں تو معترضین جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔جیسا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہ معاملہ ہوا۔اور آیت جو آپ نے پیش کی ہے اس میں حقیقت کا اظہار ہے نہ کہ کسی واقعہ کا ذکر۔اس سے اگلی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قد قيل للرسل من قبلك (۴۴:۴۱)۔اس میں فرمایا کہ مذ بین جھوٹے اعتراض کرتے ہی ہیں۔سندھ کے پیر جمیل شاہ سے ملاقات شہر گنیٹ (سندھ) کے ایک پیر جمیل شاہ صاحب کے پاس ایک بار مجھے مولوی غلام احمد صاحب اختر رضی اللہ عنہ ساکن چاچڑاں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔اُس روز اُن کے ہاں عرس تھا اور اکثر مرید جمع تھے۔ہمارے لیے انہوں نے ایک قالین بچھایا جس پر ان کا ولی عہد بیٹا اور ہم بھی بیٹھ گئے۔خود پیر صاحب چار پائی پر تھے۔دوران گفتگو کسر نفسی سے کہنے لگے آپ کی مہمان نوازی کے لیے مجھے خود بندوبست کرنا چاہیے تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مہمانوں کے لیے اپنے ہاتھ سے۔۔۔۔۔کھانا لا کر کھلاتے ، اور میں اپنے نوکروں سے کہہ رہا ہوں۔میں نے کہا اہل اللہ خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے کام فرشتوں سے