حیاتِ بقاپوری — Page 50
حیات بقا پوری 50 کو سچا سمجھتے ہیں جو اُن کی باتوں (استدلال) کا جواب نہیں دینا چاہتے ؟ اُس نے کہا میں سچا تو نہیں سمجھتا لیکن میں اُن کی پیشکر دہ آیتوں کی تردید نہیں کر سکتا۔اس پر میں نے کہا بات دراصل یہ ہے کہ مولوی صاحب نیک نیت انسان ہیں۔انہوں نے ابھی تک تحقیق ہی نہیں کی۔جب یہ تحقیق کریں گے اور حق ان پر کھل جائے گا تو مان لیں گے۔ابھی کیسے مان لیں۔اس پر سب خاموش ہو گئے۔میں نے کہا کہ اُٹھو چلیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کامیابی ہو تو وہاں پر ٹھہر نا نہیں چاہیے کیونکہ شیطان اپنی ذلت کو مٹانے کے لیے کوئی نہ کوئی حیلہ سوچتا ہے اور اس طرح حق کا اثر مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔مولوی محمد فضل صاحب کو کیا سوجھی جوش میں یہ کہدیا۔لوگو اس سے زیادہ حق اور کیا دیکھو گے اب تو مان لو۔اس پر وہی نمبر دار غصہ میں آ گیا اور چلا کر کہنے لگا کہ پکڑ لو ان کو۔میں فوراً اس کے پاس گیا اور اس کا نام ہاشم خان ) لے کر کہا کہ اگر ان لوگوں نے ہمیں مار یا کسی قسم کی بے عزتی کی تو یہ آپ کی بے عزتی ہوگی کیونکہ لوگ کہیں گے کہ آپ نے خود بلا کر بے عزتی کرائی۔تب وہ سمجھ گیا اور اس نے دوبارہ اعلان کیا کہ انہیں کوئی کچھ نہ کہے۔اور مجھے کہا کہ آپ یہاں سے جلد چلے جائیں مبادا یہ لوگ بے قابو ہو جائیں۔چنانچہ ہم جلد وہاں سے چلے آئے اور لوگ شور مچاتے رہے کہ بھاگ گئے۔اس موقعہ پر مولوی احمد خان صاحب نسیم کے والد ماجد فضل محمد خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔۱۰۔مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو ۱۹۱۵ء کا ایک اور واقعہ ہے کہ میں راولپنڈی سے چند دن کے لیے قادیان آیا۔واپسی پر حضرت اقدس خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے فرمایا کہ میں چک ۹۹ شمالی سرگودھا کے راستے واپس جاؤں کیونکہ وہاں پر حکیم شاہنواز صاحب کا بھائی ( جو متعصب غیر مبائع ہے) گیا ہوا ہے شائد وہ کوئی فتنہ پھیلائے۔میں رات لاہور شہر اور صبح مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے ارشاد کی تعمیل میں وہاں درس قرآن دیا۔چونکہ دیر ہو چکی تھی اسٹیشن پر گیا میرے ساتھ شیخ غلام احمد صاحب تو مسلم بھی تھے۔پلیٹ فارم پر پہنچے ہی تھے کہ گاڑی نکل گئی۔میں نے کہا کہ وقت ہے مولوی محمد علی صاحب ( جو اُن دنوں لنڈے بازار کے قریب رہتے تھے ) سے ہی مل آئیں۔راستہ میں شیخ غلام احمد صاحب کہنے لگے کہ حدیث میں آیا ہے کہ مخالف سے مقابلہ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے آپ مولوی صاحب