حیاتِ بقاپوری — Page 51
حیات بقاپوری 51 سے پہلے سلسلہ گفتگو شروع نہ کریں۔میں نے خیال کیا کہ اس کا تو یہاں موقعہ نہیں اور مقابلہ کی کوئی صورت نہیں۔اگر مولوی صاحب بھی خاموش رہے اور میں بھی خاموش بیٹھ کر چلا آیا تو وقت ضائع ہوگا اور وہاں کے لوگ کہیں گے کہ مولوی صاحب کے رُعب کی وجہ سے بول نہیں سکا۔میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ بموجب حدیث ہم میں سے ایک امیر بننا چاہیے۔انہوں نے مجھے کہا کہ آپ امیر ہیں۔میں نے کہا کہ اب آپ میرے لیے دعا کریں کہ مولوی صاحب سے گفتگو کے دوران میں کلمہ حق کہنے کی توفیق ملے۔چنانچہ مولوی صاحب سے ملنے کے بعد بیٹھتے ہی میں نے کہا مولوی صاحب ایک سال ہو گیا ہے کافی بحث ہو چکی ہے اب زیادہ تشریحات بند کرنی چاہئیں اور اختلافی امور پر زور دیکر ان کو نہیں بڑھانا چاہیے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو خالی بروزی نبی کہتے ہیں اور ہم بھی۔اس خالی بروزی کی تشریح کی ضرورت نہیں کہ آیا وہ صرف محدث ہوتا ہے یا کثرت مکالمہ مخاطبہ اور اظہار علی الغیب کی وجہ سے نبی بھی۔پس اس تشریح کو زیادہ نہیں پھیلانا چاہیے تا کہ اختلاف نہ بڑھے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ دینی اختلاف تو بڑا دیر پا ہوتا ہے چنانچہ سینیوں اور شیعوں میں اب تک اختلاف موجود ہے۔میں نے کہا اگر طالب حق بن کر بات کیجائے تو فیصلہ جلد ہو جاتا ہے۔کہنے لگے یہی تو مشکل ہے۔میں نے کہا دیکھیں ہم میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں حضرت مسیح ناصری کی حیات ممات کے متعلق زمین و آسمان کا فرق تھا۔چونکہ ہم طالب حق تھے اس لیے اُن کے دعوی کو سمجھ لیا اور سب اختلاف چھوڑ دئے اور حق کو قبول کر لیا۔مولوی صاحب کہنے لگے ہم جانتے ہیں جدھر میاں صاحب جماعت کو لے جا رہے ہیں وہ حق نہیں ہم حق پر ہیں۔میں نے کہا اگر ہر ایک فریق یہ دیکھے کہ صحابہ کرام کا نمونہ کدھر پایا جاتا ہے پھر جہاں وہ نظر آئے اسی جماعت کے ساتھ مل جائے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ ہم نے اس پر غور کیا ہے بچے خلیفے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔اگر اختلاف ہوا تو یزید کی خلافت میں۔میں نے کہا مولوی صاحب اگر میں یہ کہوں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے وقت بھی ثقیفہ بنو ساعدہ میں انصار اور مہاجرین کے درمیان اختلاف ہوا تھا۔پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنے پر بعض لوگوں نے اختلاف کیا کہ ایسے سخت مزاج کو کیوں خلیفہ بنادیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں جو طوفان بے تمیزی بعض منافقین نے برپا کیا۔وہ بھی ظاہر ہے۔کیا آپ ان واقعات کا انکار کر سکتے ہیں؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے وقت جو اختلاف ہوا اس سے بچہ بچہ واقف ہے۔تو کیا اختلاف کے باعث حضرت علی کرم اللہ وجہ بچے خلیفہ نہ رہے تھے۔حالانکہ آپ نے ابھی